حکومت کا ہر اچھا اقدام اور قانون سازی اپوزیشن کیلئے بری خبر ہے، شبلی فراز
اسلام آباد : وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ ماضی کے حکمران منی لانڈرنگ میں ملوث اور کالا دھند سفید کرتے تھے اس لئے قانون نہیں بناتے تھے ،اپوزیشن نے ذاتی مفادات کیلئے قوانین کے خلاف پور ا زور لگایا ،پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس قانون سازی نہ کرتے تو پاکستان بلیک لسٹ میں شامل ہوسکتا تھا ،اپوزیشن فیٹف قوانین کی حمایت کے بدلے نیب قوانین میں من پسند ترامیم چاہتی تھی،اپوزیشن شریف اور زر داری فیملی سمیت شاہد خاقان عباسی و دیگر کے خلاف بدعنوانی کیسز بند کرنا چاہتی تھی ،حکومت کا ہر اچھا اقدام اور قانون سازی اپوزیشن کیلئے بری خبر ہے،بیماری کا بہانہ بنا کر فرار ہونے والا شخص ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرے گا،اپوزیشن کی اے پی سی ملزمان کا اکٹھ ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے معاون خصوصی شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اہم قوانین منظور کیے گئے،قانون سازی ملک کے لیے نہایت اہم تھی۔وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ حالیہ قانون سازی فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے بنیادی شرط تھی۔ انہوںنے کہاکہ ماضی کے حکمران منی لانڈرنگ میں ملوث تھے،ماضی کے حکمران خود کالا دھن سفید کرتے تھے اسی لیے قانون نہیں بناتے تھے ۔وفاقی وزیر نے کہاکہ اگر قانون سازی نہ کرتے توملک بلیک لسٹ شامل ہو سکتا تھا،اپوزیشن نے ذاتی مفادات کے لئے ان قوانین کے خلاف پورا زور لگایا۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ حکومت کا ہر اچھا اقدام اور قانون سازی اپوزیشن کیلئے بری خبر ہے،بیماری کا بہانہ بنا کر فرار ہونے والا شخص ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریگا۔سینیٹر شبلی فرازنے کہاکہ اپوزیشن کی پوری کوشش رہی کہ پاکستان گرے لسٹ میں ہی رہے،اپوزیشن والوں نے اگر کچھ نہیں کیا تو ان کو قوانین سے کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔شہزاد اکبر نے کہاکہ فیٹف کوئی ایک ادارہ یا این جی او نہیں مختلف ملکوں کے نمائندوں پر مشتمل ہے،فیٹف نے ہمارے قوانین کا جائزہ لیکر بعض ترامیم اور اصلاحات کی نشاندہی کی،اصلاحات کا مقصد منی لانڈرنگ روکنا اور دہشت گردی کیلئے رقوم کی فراہمی کا خاتمہ کرنا تھا ۔ شہزاد اکبر نے کہاکہ اپوزیشن فیٹف قوانین کی حمایت کے بدلے نیب قوانین میں من پسند ترامیم چاہتی تھی ،حکومت چاہتی ہے کہ ملک جلد سے جلد گرے لسٹ سے نکلے۔معاون خصوصی شہزاداکبر نے کہاکہ اپوزیشن کا مقصد تھا کہ شہباز شریف اور انکے خاندان کا ’’ٹی ٹی کیس‘‘بند کر دیا جائے ،اپوزیشن آصف زرداری اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف بدعنوانی کیسز بند کرنا چاہتی تھی،اپوزیشن کی جانب سے منی لانڈرنگ کی شق 11میں ترمیم متعارف کرانے کی کوشش کی گئی ۔شہزاد اکبر نے کہاکہ حکومت نے اپنے بل میں منی لانڈرنگ قانون کی شق 11کی ذیلی شق 16میں ترمیم کی۔ انہوںنے کہاکہ اپوزیشن منی لانڈرنگ کو ناقابل دست اندازی قانون بنانا چاہتی تھی،دنیا بھر میں منی لانڈرنگ قابل دست اندازی قانون لاگو ہے۔معاون خصوصی نے کہاکہ اپوزیشن چاہتی تھی کہ منی لانڈرنگ کے حوالے سے نیب کا اختیار ختم کیا جائے ۔ انہوںنے کہاکہ اپوزیشن چاہتی تھی کہ پاپڑ اور فالودے والوں کے نام پر اکاؤنٹ بنتے رہیں۔ انہوںنے کہاکہ قومی اسمبلی میں ارکان کی گنتی کے حوالے سے پروپیگنڈا خفت مٹانے کی کوشش ہے ،قومی اسمبلی اجلاس کی کوریج براہ راست تھی ، پریس لاؤنج میں سب صحافی موجود تھے۔شہزاد اکبر نے کہاکہ کیمروں اور صحافیوں کی موجودگی میں غلط گنتی کیسے ممکن تھی،اپوزیشن کی اے پی سی ملزمان کا اکٹھ ہے۔معاون خصوصی شہزاد اکبر نے کہاکہ اپوزیشن کے اپنے جج نہیں لگ رہے تو وہ اب 19ویں ترمیم کا خاتمہ چاہتی ہے ۔شہزاد اکبر نے کہا کہ آخر میں اپوزیشن کی سوئی اینٹی منی لانڈرنگ بل پر آ کر اٹک گئی، اینٹی منی لانڈرنگ پہلے آرڈیننس کی صورت میں 2007 میں لاگو ہوا، 2010 میں پارلیمان سے قانون بنا کسے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کہا گیا، جب اس قانون کا جائزہ لیا گیا تو اس میں کافی خامیاں تھیں جس کی نشاندہی کی گئی اور طے کیا گیا کہ ان خامیوں کو دور کر کے قانون کو بہتر کیا جائے گا کیونکہ اس قانون میں کافی خامیوں کی وجہ سے ہی یہ جعلی اکاؤنٹس کے کیسز سامنے آتے ہیں۔


