عوام مسائل کا حل چاہتے ہیں
کھپرو(سندھ) کے سات سالہ بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونا ایک نیااور خوش آئندرجحان سمجھا جانا چاہیے جس میں اپنا مرا ہوا مرغا اٹھائے بچہ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے شکایت کر رہا ہے کہ بارشوں کا جمع شدہ پانی اتنا مضر صحت ہو چکا ہے کہ اسے پینے سے اس کا مرغا مر گیا ہے۔اگر وہ پیئے گا تو وہ خود بھی مر جائے گا۔بچے نے انتہائی غصے میں مطالبہ کیا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری آئیں اور اس گندے پانی کا نکاسی کا بندوبست کریں۔سوشل میڈیا نے عوام کو قوت گویائی دے دی ہے۔عوام کی ترجمانی کا فرض سنبھال لیا ہے۔کوئی بااثر خاندان اپنے غریب پڑوسی کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرتا ہے تو ویڈیو وائرل ہونے کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے (بادلِ ناخواستہ ہی سہی)حرکت میں آجاتے ہیں۔مرغے کی موت پر صدمے پر خاموش رہنے کی بجائے سات سالہ بچہ احتجاج کر رہا ہے،اسے غیر اہم سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے۔بلاول بھٹو زرداری بچے کی شکایت دور کرنے کے لئے فوری اقدامات کریں یہ بچہ نظر انداز کیا گیا تو کل ہر گلی سے بچے اپنے مرے ہوئے مرغے تھامے،غم و غصے کا اظہار کرتے نظر آئیں گے۔سیاست دانوں کے لئے ووٹ مانگنا دشوار ہو جائے گا۔جب نوبت یہاں تک پہنچ جائے کہ سات سالہ بچہ براہ راست پارٹی چیئرمین کو مخاطب کرکے بارش کا جمع شدہ پانی نکالنے کا مطالبہ کرنے لگے تو سیاست دانوں کو سمجھ جانا چاہیئے کہ”ووٹ کو عزت دو“ کے معنے تبدیل ہو گئے ہیں۔ جو مسائل حل کرے گا کل وہی ووٹ لے سکے گا۔سرداری، کسی نامور سیاست دان سے رشتہ داری یا دونمبری دولت کام نہیں آئے گی۔عام آدمی حیران ہے کہ سیاست دان کورونا کے تجربے سے گزرنے کے بعد بھی ذرائع ابلاغ کے جدید مظاہر کی افادیت سے اس قدر بے خبر ہیں کہ بچے کی دہائی پر داد رسی کے لئے کوئی محکمہ کھپرو نہیں پہنچا۔اس بے خبری سے یہی پیغام ملتا ہے کہ سرکاری محکمے تاحال یہی سمجھ رہے کہ ”ووٹ کو عزت دو“ کا مطالبہ جس بااختیار ادارے سے کیا جارہے، اس ادارے سے صلح ہوتے ہیں آج کے معتوب ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن جائیں گے لہٰذا ان کی ناراضگی مول نہ لی جائے کل مہنگی پڑے گی۔یہ تأثربلا وجہ نہیں، اس کے پیچھے کئی دہائیوں پر محیط طویل تجربہ ہے۔اب تویہ راز راز نہیں رہا، سیاستدان خودیہ کہتے ہوئے نہیں شرماتے کہ مذکورہ ادارے سے ان کی اچھی یاد اَللہ ہے اور حال ہی میں انہوں نے بعض فرشتہ صفت اور پارسائی کے دعویدارسیاست دانوں کو ملاقاتیں کرتے دیکھا بھی ہے۔یہ الگ بات ہے وضاحت دیتے وقت مسکراتے ہوئے بات گھما دیتے ہیں۔ اسی تناظر میں حکومت گرانے کے لئے مشترکہ اقدامات کی منصوبہ بندی بھی ہونے لگی ہے۔غالب کا دور بہت پہلے گزر چکا، جب کہا جاتاتھا۔۔۔”ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ“!، اب کواکب نے حجاب ترک کر دی ہے۔یہی وجہ ہے کہ وزراء میڈیا کے روبرو یہ دعویٰ کرتے دیکھے جاتے ہیں:”نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے؛یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں“۔عام آدمی جاگتی آنکھوں یہ سب دیکھ رہا ہے۔عام آدسمی نجی محفلوں میں یہ سوال بھی پوچھ رہا ہے: جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی زبان پر یہ شکایت کیوں مسلسل جاری ہے کہ مارچ میں حکومت گھر بھیجنے کا وعدہ کیوں پورا نہیں کیا گیا؟علاوہ ازیں ضام،ن کون تھے؟اور اب خاموش کیوں ہیں؟۔۔جبکہ ضامن انکاری ہیں۔ملاقات کے بعد یہ کہنا ضروری سمجھتے:۔۔ ہم نے کوئی ضمانت نہیں دی تھی؛سیاست کے علاوہ ہر موضوع پر بات کی ہے جدید ذرائع ابلاغ کی اثر انگیزی بھی اپنی جگہ تیزی سے معاشرے میں سرایت کرتی محسوس ہو رہی ہے۔انقلابی ماہرین معیشت کہہ چکے ہیں؛ آلات پیداوار نہ صرف پیداواری رشتے تبدیل کرتے ہیں بلکہ معاشی اور معاشرتی رشتے بھی تبدیل ہوجاتے ہیں۔مشینوں کی ایجاد سے جاگیرداری نظام پر ضرب لگتی ہے کمپیوٹر نے آٹو مائیزیشن کو جنم دیا اورپھر آٹو مائیزیشن کے بطن سے نئے تقاضے جنم لینے لگے ہیں۔کمپیوٹرئز گاڑیاں چلانے کے لئے ایسے ڈرائیور درکار ہیں جو کمپیوٹر کی تعلیم سے آشنا ہیں۔غیر ہنرمند اور مطلوبہ تعلیم سے نابلد افراد کے لئے ملازمت کے مواقع دن بدن کم ہوتے جا رہے ہیں۔ آن لائن روزگار کے مواقع تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔پاکستان اسی جدید دنیا کا حصہ ہے۔اپنا وجود برقرار رکھنے کے لئے پاکستان کو بھی جدید علوم اور ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنا ہوگی۔زراعت کے شعبے میں بھی جدیدتقاضوں کا خیال رکھناہوگا۔تعلیم، صحت، روزگار کی فراہمی سے لاپرائی برتنے والوں کے لئے سیاست کے دروازے بند ہوجائیں گے۔معدنی وسائل سے اپنی جیبیں بھرنے والے سیاستدان گھر بیٹھنے پر مجبور ہو جائیں گے۔چوری، لوٹ مار، اقرباء پروری کی کھلی آزادی پر قدغن لگے گی موروثی سیاست کے دن گنے جا چکے ہیں۔ پانی کے استعمال میں منصوبہ بندی نہ کی گئی تویاد رہے آج ایک بچہ اپنے مردہ مرغے کے ساتھ سراپا احتجاج نظر آتا ہے کل لاکھوں بچے گھروں سے نکل آئیں گے۔یہ نشتند، گفتند اور برخاستند والی سیاست کام نہیں آئے گی۔اپنے وعدے پورے نہ کرنے والے سیاستدانوں کی جگہ ایوانوں میں نہیں ہوگی۔عوام اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔سیاست دانوں کو اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا۔انہیں تسلیم کرنا ہوگا کہ اداروں سے ”ووٹ کی عزت“ نہیں ملے گی۔اسے تاریخی جبر کہیں یا کوئی دوسرا نام دیں؛انتخابی اصلاحات وقت کا تقاضہ ہے،پورا کرنا ہوگا۔کوئی مانے یا نہ مانے،حالات بتا رہے ہیں کہ مستقبل قریب میں ووٹ کو عزت ووٹر کی دہلیز سے ملے گی۔


