ناسا: پہلی بار خاتون خلا باز کو چاند پر بھیجنے کی تیاری
امریکی خلائی ادارے ناسا نے پہلی بار چاند کے قطب جنوب میں خلابازوں کو بھیجنے کے ایک منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ سن 1972 کے بعد چاند پر خلا بازوں کی ٹیم کا یہ پہلا مشن ہوگا جس میں ایک خاتون بھی شامل ہوں گی۔
امریکی خلائی ادارے ناسا نے سن 1972 کے بعد پہلی بار چاند پر خلا بازوں کو بھیجنے کے ایک منصوبے کا اعلان کیا ہے جو پہلی بار چاند کے قطب جنوب میں اتریگا۔ اس مشن میں شامل خلابازوں میں ایک خاتون بھی شامل ہوں گی اور اس طرح اگر یہ مشن کامیاب ہوا تو پہلی بار خاتون خلا باز چاند پر قدم رکھ سکیں گی جبکہ تاریخ میں دوسری بار انسان چاند پر پہنچے گا۔ ادارے کے مطابق یہ مشن 2024 میں بھیجا جائے گا۔
ناسا کی ویب سائٹ پر ادارے کے موجودہ منتظم جم بریڈن اسٹائن نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا، ”ہم سائنسی دریافت، معاشی فوائد اور نئی نسل کے تلاش کاروں کے حوصلہ افزائی کے لیے چاند پر دوبارہ جار رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس پروجیکٹ پر تقریباً 28 ارب ڈالر کا خرچ آئیگا اور چونکہ صدر ٹرمپ کی ترجیحات میں اس منصوبے کو اعلی مقام حاصل ہے اس لیے امریکی پارلیمان کو فوری طور پر اس کا بجٹ منظور کرنے کو کہا گیا ہے۔ ناسا کے منتظم برائیڈن اسٹائن نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ اگر کانگریس ابتدائی تین اعشاریہ دو ارب ڈالر کا بجٹ آئندہ کرسمس تک منظور کر لیتی ہے توپھر ناسا ”سن 2024 تک چاند پر اترنے کے راستے پرگامزن ہے۔”
اس مشن کا نام ‘آرٹمس’ رکھا گیا ہے جسے کئی مرحلوں انجام دیا جائیگا۔ اس کے لیے سب سے پہلے 2021 میں نومبر تک ناسا کو بغیر پائلٹ والے اپنے خلائی جہاز اورائن کو لانچ کرنا ہوگا۔ مشن کے دوسرے اور تیسرے مرحلے میں خلا باز پہلے چاند کا چکر لگائیں گے اور پھر چاند کی سطح پر اتریں گے۔


