ملتان بلوچ طلبا کے احتجاج کو ایک ماہ مکمل ،تاحال شنوائی نہیں ہو سکی

بلوچ طلبا گزشتہ تیس دنوں سے بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کےمین گیٹ کےسامنے لگے کیمپ میں تعلیم کی بھیک مانگ رہے ہیں مگراہل اقتدار و اہل تعلیم ان طلبا کے احتجاج کو درخوراعتنا سمجھ رہے ہیں
طلبا کے مطابق ہمیں توقع تھیں کہ یونیورسٹی کی جانب سے کمیٹی بنائے جانے کے بعد ہمارا مسئلہ حل ہوگا مگرتاحال ہمارا مسئلہ حل ہوجانے کی بجائے بگڑرہا ہے،حکومتی سطح پرروابط تو ہورہے ہیں مگربات کسی حتمی نتیجے تک نہیں جارہی
واضح رہے طلبا کا یہ احتجاج تیس دن کاعرصہ مکمل کرچکا ہے
ان احتجاجی طلبا کا مطالبہ ہے کہ ان کے نئےآنےوالے طلبا کےلیے یونیورسٹی پرانی پالیسی پرعمل پیرا ہو اور ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے قبائلی طلبا کےلیے کوٹے پرسکالرشپ سمیت ان کےلیے کوٹے میں اضافہ شامل ہے
یادرہے!اس احتجاج کا وزیراعلی جام کمال نوٹس لےچکے ہیں اور سکریٹری ہائرایجوکیشن سے بھی بات کی مگرتاحال کسی قسم کاحتمی نتیجہ برآمدنہیں ہوا
واضح رہے کل گورنرپنجاب چوہدری سرور سے وزیراعلی بلوچستان جام کمال کی ملاقات ہوئی اوران سےانہوں نے اس موضوع پربات کی مگرتاحال گورنرپنجاب کی طرف سے بھی کسی قسم کااقدام نہیں اٹھایا گیا ہے جس سے معلوم ہو کہ ان طلبا کے مطالبات پر کسی قسم کی پیش رفت ہورہی ہے
دوسری جانب بلوچ سٹوڈنٹس کونسل کے چیرمین وقاربلوچ نے میڈیاسےبات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارااحتجاج مطالبات کے پورا ہونے تک جاری رہےگا
انہوں نے کہا کہ یہ واقعی خوش آئندہ عمل ہے وزیراعلیٰ بلوچستان نےاس پرنوٹس لیا اور گورنرپنجاب سےاس مسئلے پربات کی مگر مسئلہ جوں کاتوں رہنا تشویش ناک عمل ہے ابھی تک کسی حکومتی وسرکاری اہلکار نے ہمیں اس مسئلے پر جاری پیش رفت کے بارے میں نہیں بتایا
وہی انہوں نےوزیراعلی پنجاب عثمان بزدار سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنےحلقے کے طلبا کے مطالبے پر ابھی تک کسی قسم کا ردعمل نہیں دیا اور نہ ہی اب تک انہوں نے کسی قسم کاان کے مسئلے پر نوٹس لیا
انہوں نے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار سےاپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کےقبائلی علاقے کے طلباکے لیے سکالرشپ سمیت ان کےلیے یونیورسٹی کے ہرشعبے میں کوٹا مقررکرے
واضح رہے یہ احتجاجی کیمپ تیس دن سے جاری ہے مگر تاحال احتجاجی طلبا کے مطالبات پر کسی قسم کی پیش رفت سامنے نہیں آئی

اپنا تبصرہ بھیجیں