اے این پی کا جلسہ مظلوم قومیتیوں کی جدوجہد میں سنگ میل ثابت ہوگا، پی ایس ایف

پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پشتون ایس ایف آٹھ اکتوبر کو قلعہ سیف اللہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے جلسہ میں بھرپور شرکت کرے گی. بیان میں اے این پی کے مرکزی قائدین خصوصی شرکت کریں گے جن میں پارٹی کے مرکزی سینیئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی، مرکزی جنرل سکرٹری میاں افتخار حسین اور دیگر مرکزی قائدین کو خوش آمدید کہا گیا.

بیان میں کہا گیا کہ شدید ریاستی دباؤ کے باوجود یہ جلسہ اپنے قومی اہداف اور مظلوم قومیتوں کے حقوق کی جدوجہد کے رستے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا اور سیاسی حوالے سے ہمارے خطے کے لیے دور رس نتائج برآمد کرے گا.

جلسے میں صوبہ بھر سے پشتون ایس ایف کے ذمہداران اور سینیئر اراکین صوبائی جنرل سکرٹری مزمل خان کاکڑ اور صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی ممبر معصوم خان میرزئی کی قیادت میں شرکت کرینگے. دوسری جانب بیان میں کہا گیا کہ پشتون ایس ایف اپنے پروگرام اور سیکولر نظریات کے تناظر میں ہمیشہ ہر اس عمل کے آگے ڈٹ کر مقابلہ کرے گا جو بنیادپرستی، تنگ نظری اور استحصال کو تقویت بخشے گی.

پشتون ایس ایف فخرافغان باچاخان کے تعلیمات اور ولی خان کے احتجاجی رویے کو اپناتے ہوئے مادر وطن میں ناخواندگی کے خاتمے تک جدوجہد کرتا رہے گا. پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن طلباء کے تمام تر حقوق کے لئے میدان میں کھڑی ہے. ہم تمام نوشتہ دیوار اور پس دیوار عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے تک جدوجہد جاری رکھیں گے. منافرت اور امتیازی سلوک کو سرعام بڑھاوا دینے کیلئے تنگ نظر اور بنیاد پرست سوچ کو تقویت دی جا رہی ہے. کرایہ کش اور اجرتی لوگوں کو کھلی چھوٹ دی جا چکی ہے. پشتون ایس ایف ان سب ہتکھنڈوں، استحصال اور جبر کے آگے ہمیشہ طلباء کے تمام تر قانونی، اخلاقی اور انسانی حقوق دلانے کیلئے ہمیشہ سرگرم عمل رہے گا.

بیان میں مزید کہا گیا کہ سفیر انسانیت باچاخان بابا نے اپنے آبائی گاؤں سے آزاد مدرسہ سکول کے نام سے افغان علاقوں میں سکولوں کے قیام کا آغاز کیا. کچھ ہی عرصے میں سکولوں کا یہ نیٹ ورک سامراج کے زیرِ تسلط افغان صوبے میں پھیلا دیا گیا جہاں ان سکولوں کی تعداد اُس وقت کے سرکاری سکولوں سے بھی زیادہ تھی۔

باچا خان کی روشن خیالی کی راہ میں انگریز اور اس کے حواری دیوار کھڑی نہ کرتے تو آج یہ خطہ علم کا مرکز ہوتا۔اور انگریز استعمار کے خلاف پشتون عوام میں سیاسی شعور بیدار کرنے کے ساتھ لوگوں کو رفاہِ عامہ کے کام پر لگایا۔ اپنے علاقے کے خان ہونے کے باوجود انہوں نے ہاتھ میں جھاڑو پکڑا اور دوسروں کو بھی صفائی کی ترغیب دی جبکہ ولی خان بابا باچا خان کے افکار کا ایک عملی نمونہ اور مثالی شخصیت ہیں. ان عظیم ہستیوں کے افکار اج بھی ہمارے لے مشعل راہ ہیں.

اپنے اکابرین کو یاد کرنا اور ان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے تمام کارکن آٹھ اکتوبر کو قلعہ سیف اللہ جلسے میں بھرپور شرکت کرینگے.

اپنا تبصرہ بھیجیں