وفاقی حکومت کا زرعی قرض ادا نہ کرنے پر مقدمات درج کرنے اورکارروائی کا فیصلہ
کراچی:وفاقی حکومت کا سندھ کے کاشتکاروں پر زرعی قرض اور ٹیکس ادا نہ کرنے پر مقدمات درج کرنے اورکارروائی کا فیصلہ،سندھ حکومت نے مقدمات درج کرنے اور کارروائی کرنے سے انکار کردیا. سندھ حکومت نے زرعی ترقیاتی بینک کے عمل پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت وفاق کے کہنے پر سندھ کے کسی بھی کاشتکار پر قرض کا مقدمہ درج نہیں کرے گی. صوبائی وزیر زراعت محمد اسماعیل راہو نے مزید اپنے بیان میں کہا ہے کہ سندھ میں بارشوں سے غریب کاشتکاروں کی فصلیں تباھ ہوچکی ہیں، انکے زرعی قرض اور ٹیکس معاف کیے جائیں, حالیہ طوفانی بارشوں نے خریف کے فصلوں کو 40 سے %80 نقصان پہنچایاہے. اسماعیل راہو نے کہا کہ وفاق کاشتکاروں کے قرضے معاف کرنے کی بجائے انکے خلاف کارروائی کیسے کرسکتا ہے؟, وفاق کو کارروائی کی بجائے کاشتکاروں کے زرعی قرض معاف اور ٹیکس چھوٹ دینی چاہیے تھی,وفاقی حکومت کاشتکاروں کی مدد کو تو نہ آئی لیکن ان کو جیل میں ڈالنے کے لئے آ گئی ہے.صوبائی وزیر نے کہا کہ عمران خان نے اپنے ATMs کو تو اربوں روپے کے ٹیکس اور قرض معاف کر دیے، مگر تباہ حال کاشتکاروں کے چند ہزاروں کے قرض بھی وفاق پے بھاری پڑ گئے، نیازی حکومت بتائے کتنے صنعتکاروں، سرمائی داروں اور تاجروں پے قرضوں کے مقدمات بنائے ہیں.


