ملک ایک بحرانی صورتحال کے دلدل میں پھنستا جارہا ہے،عالمگیر مندوخیل
پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کی صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین عالمگیر مندوخیل، ڈپٹی چیئرمین مزمل خان کاکڑ اور ممبر معصوم خان میرزئی نے اپنے مشترکہ بیان میں 25 اکتوبر کو کوئٹہ میں پاکستان ڈیموکریٹک موؤمنٹ کی جانب سے منعقدہ جلسے کے حوالے سے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک ایک بحرانی صورتحال کے دلدل میں پھنستا چلا جارہا ہے۔ آمرانہ قوتیں پس پردہ تمام سول اداروں پر اپنا غلبہ بٹھائے رکھی ہیں۔ ہائبرڈ مارشل لاء کے اس صورتحال میں تمام ادارے منفی اثرات کی لہر میں لپٹ چکے ہیں اور ملک میں اینارکی کی صورتحال ہے۔ صحت، تعلیم، عدلیہ، پولیس اور دیگر ادارے و محکمے برسرِ احتجاج ہیں۔ افراتفری کے اس عالم میں جمہوری قوتوں کا ایک تحریک کی شکل میں اکٹھا ہونا ملک اور عوام کے لئے ایک نیک شگون ہے. بیان میں کہا گیا کہ پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن بحیثیت مکمل طور پر پی ڈی ایم کے مطالبات کی حمایت کرتی ہے اور اس تحریک کے بنیادی مقاصد اور مطالبات کو اپنے نظریاتی و تنظیمی وجود کا حصہ سمجھتی ہے. بیان میں مزید کہا گیا کہ آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ بلوچستان اور خیبر پشتونخوا میں تعلیمی اداروں کی انتظامیہ بھی آمرانہ قوتوں کی کٹھ پتھلی بنی ہوئی ہے. تعلیمی ادارے وحشت کا منظر پیش کرنے لگی ہیں اور علم کا گہوارہ ہونے کے منافی فوجی اڈوں کا عکس پیش کرتی ہیں. حتیٰ کہ شہروں کے عام چوراہوں پر قومی اور جمہوری قائدین کے لگے سیمبلز کو بھی غیر جمہوری قوتوں کی جانب سے نشانہ بنایا رہا ہے. بیان میں پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے تمام ضلعی یونٹوں کو تاکید کی گئی کہ جلسے کے حوالے سے ہونے والے مہم میں بھرپور حصہ لیں اور جلسے میں بڑی تعداد میں اپنی شرکت یقینی بنائیں.


