ایوان صدرآرڈیننس کی فیکٹری کاکام کررہاہے،سرزمین کے انچ انچ کی حفاظت کرینگے، ڈاکٹرمالک بلوچ

کوئٹہ؛ نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہاہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کاکوئٹہ کاجلسہ تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف جدوجہد کا ایک سنگ میل ہوگا انہوں نے کہا عمران خان کی حکومت ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ بدعنوان اورناکام حکومت ہے یہ مقتدرہ کی طرف سے ایک نئے طرزعمل کاحکومتی ڈھانچہ ہے جومکمل ماشل لا بھی نہیں لیکن جمہوری توبالکل بھی نہیں پارلیمنٹ کی بیتوقیری کایہ عالم ہے کہ یہ آمروں کی پارلیمنٹوں سے بھی زیادہ بے اختیاراورگئی گزری ہے حکمران اندر سے جس قدر کھو کھلے، ڈرے ہوئے اور خوفزدہ ہیں جس کا اندازہ ان کے طرز حکمرانی سے باآسانی لگایاجاسکتاہے حکومت کے پاس عوام کی فلاح وبہبودکاکوئی منصوبہ نہیں، احتساب کے نام پر سیاسی انتقام اور بے بنیاد جھوٹے مقدمات سے اپوزیشن کے رہنماؤں کیخلاف انتقامی کارروائیوں کے سے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹارہے ہیں،حکومت کی عوام دشمن اقدامات سے نمٹنے کیلئے عوام دوست سیاسی جماعتوں نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے حزب اختلاف کوایک پلیٹ فارم پر متحد کیاہے اوراسی پلیٹ فارم سے عوام کے حقوق کے حصول کی جدوجہد جاری ہے گجرنوالہ اورکراچی کے عظیم الشان عومی اجتماعات کے بعدکوئٹہ کاعظیم الشان جلسہ اس بات کوثابت کردے گاکہ تحریک انصاف کامینڈیٹ جعلی تھا اور 2018کے عام انتخابات میں انجنیئرنگ کے ذریعے پی ٹی آئی کو عوام پرمسلط کیاگیا،انہوں نے کہاکہ پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیابدترین پابندیوں کاشکار ہے، نیشنل پارٹی مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہاکہ لوگ بڑے پیمانے پرغربت و مہنگائی اور بیروزگاری کی چکی میں پس رہی ہے بدامنی اور لاقانونیت اپنے عروج پر ہے عام شہریوں کیلئے امن،انصاف اور روزگار کے دروازے بندہوچکے ہیں خارجہ پالیسی تنہائی کا شکارہے جبکہ داخلہ پالیسی مضحکہ خیز ہے۔وفاقی حکومت قومی وحدتوں کے اندرونی محاملات اوران کے اختیارات میں غیرآئینی مداخلت کررہی ہے سندھ اوربلوچستان کے ساحل ووسائل اورمعدنی دولت پر ڈاکے ڈالے جا رہے ہیں،قومی اسمبلی کی موجودگی میں ایوان صدرآرڈیننس کی فیکٹری کاکام کررہاہے۔ انھوں نے کہاہم اس آرڈیننس کوہرگزنہیں مانتے جس کے ذریعے وفاق سندھ اوربلوچستان کے جزائرپرقبضہ جمانے کا خواب دیکھ رہاہے ہم اپنی سرزمین کے ایک ایک انچ کی حفاظت کریں گے انہوں نے کہاکہ حکومت قبضہ گیری کے اس آرڈیننس کوفوری طورپرواپس لے اور قومی وحدتوں کے اختیارات میں مداخلت بند کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں