میکرون اور ٹرمپ کیخلاف فلسطینی نوجوان کا انوکھا احتجاج
ٹرمپ نام کی خطاطی والے جوتوں کی قیمت 50 ڈالر ہے جنہیں اصلی چمڑے سے بنایا گیا ہے۔
دنیا بھر میں لوگوں کے احتجاج کے نت نئے طریقے سامنے آتے ہیں اور لوگ اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کیلئے کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں۔
اسی طرح فلسطینی نوجوان نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ناموں کی خطاطی والے جوتے بناکر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
جوتے بنانے والے فلسطینی نوجوان عماد محمد نے ہاتھوں سے بنائے ہوئے جوتوں پر امریکی وفرانسیسی صدور کے نام عربی میں لکھ کر انہیں فروخت کررہے ہیں۔
فلسطینی نوجوان کی دکان رام اللہ میں ہے جہاں انہوں نے 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے پر احتجاج کرتے ہوئے ٹرمپ کے ناموں والے جوتوں کی فروخت شروع کی تھی تاہم اب گزشتہ دنوں فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے واقعے کے بعد فرانسیسی صدر میکرون کے نام سے بھی جوتے فروخت کیے جارہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جوتے زمین پر پڑتے ہیں تو اس میں گندگی اور دھول لگتی ہے جس سے نام بھی گندہ ہوتا ہے اورا س سے ان کی قدر بھی پتا چلتی ہے۔
عماد محمد نے احتجاجاً جوتوں پر ٹرمپ اور میکرون کا نام لکھنے کی وجہ بتائی کہ یہ ہمارے لوگوں پر حملہ آور ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نام کی خطاطی والے جوتوں کی قیمت 50 ڈالر ہے جنہیں اصلی چمڑے سے بنایا گیا ہے۔
عماد محمد نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی حمایت کی شدید مذمت کی اور معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔
عماد محمد رام اللہ میں اپنی دکان میں آنے والے فرانسیسی اور امریکی گاہکوں سے ان کے صدور کی جانب سے کیے گئے اقدامات اور الفاظوں پر معافی کا بھی کہتے ہیں۔
کوئی بھی فرانسیسی یا امریکی کسٹمر اپنے صدور کے اقدامات پر معافی مانگے بغیر دکان میں داخل نہیں ہوسکتا۔


