پورس کے ہاتھی

تحریر: انور ساجدی
خفیہ رابطوں کااچھا خاصہ سلسلہ چل نکلا تھا کہ خدانے حکومت کی سن لی اور سابق اسپیکر ایاز صادق نے بمباری کردی بعض لوگ اسے خود کش حملہ بھی قراردیتے ہیں اور ان کاخیال ہے کہ سابق اسپیکر نے اپنی جماعت اور قیادت کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے حکومتی وزراء نے ایاز صادق کی باتوں کاذمہ دار پی ڈی ایم کو بھی قراردیا ہے اور اسے آڑے ہاتھوں لیا ہے دلچسپ بات ہے کہ سابق اسپیکر اسمبلی میں ابھی نندن کے بارے میں جو کہا تھا اس کا جواب وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کی بجائے ڈی جی آئی ایس پی آر نے دیا حالانکہ بات شاہ محمود کے بارے میں تھی جواب بھی انہی کا بنتا تھا۔
بہرحال پی ڈی ایم کے قیام کے بعد صورتحال روز بروز دلچسپ ہوتی جارہی ہے مقابلہ دوبیانیوں کے درمیان ہے ایک میاں نوازشریف کابیانیہ ہے جسے سرکاری حلقے آنشین ناقابل قبول اور ملک دشمنی سے تعبیر کررہے ہیں دوسرا بیانیہ سرکار عالی مقام کا ہے جس کا سارا انحصار اپنی حب الوطنی کے دعوؤں پر ہے حکومت کو موقع ہاتھ لگا ہے کہ وہ موجودہ سیاسی جنگ کے میدان پنجاب اور اسکے عوام کو قائل کرے کہ ن لیگ ایک ملک دشمن جماعت ہے اس کی قیادت بھارتی ایجنٹ ہے جو ملکی مفادات اور سلامتی کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے حکومت کا پکا خیال ہے کہ وہ اس بیانیہ کے پیچھے اپنی نااہلی بیڈگورننس اورغیرمقبولیت کوچھپانے میں کامیاب رہے گی۔
سرکار سے قطع نظر کافی لوگوں کو اس بات پرحیرت ہے کہ پہلی مرتبہ پنجاب کی سرزمین سے مقتدرہ اوراسکے بیانیہ کیخلاف آواز اٹھ رہی ہے برسوں تک خود ن لیگ کے سپریم لیڈر میاں محمدنوازشریف بھی اسی بیانیہ کو لیکر چلے ہیں اور سیاسی مخالفین کو غدار کا لقب دیتے رہے ہیں لیکن2018ء کے فیصلے کے بعد میاں صاحب نے خود وہ بیانیہ اختیار کیا ہے جو پہلے بلوچ اور پشتون لیڈروں کا موقف تھا۔
حکومت کے نادان دوستوں کا یہ عالم ہے کہ جو ایاز صادق نے قومی اسمبلی میں کہا تھا دشمنی میں وہ اسے بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں مثال کے طور پر ایاز صادق نے کہا تھا کہ ابھی نندن کی گرفتاری کے بعد قومی سلامتی سے متعلق ایک اجلاس بلایا گیا تھا وزیرخاجہ جب اجلاس میں پہنچے تو وہ پسینے سے شرابور تھے وہ ہانپتے کانپتے کہہ رہے تھے کہ ابھی نندن کو فوری طور پر رہا کیا جائے کیونکہ بھارت آج رات9بجے حملہ کرنے والا ہے ایازصادق کے مطابق یہ کہتے ہوئے شاہ محمود کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔
اس بات کا فیاض الحسن چوہان نے بتنگڑ بنایا اور سابق اسپیکر سے منسوب کیا کہ وزیرخارجہ نیچے سے بھی ”معطر“ تھے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے سائنس کے وزیر فوادچوہدری نے کہا کہ ہم نے پلوامہ میں گھس کر انڈیا کو مارا حالانکہ پلوامہ حملے کے بعد پاکستان نے اس کی پرزور تردید کی تھی اور بھارتی الزام کومسترد کردیا تھا لیکن ایک وفاقی وزیر نے نادانی سے الزام اپنے سرلے لیا اور گواہی دی کہ پلوامہ حملے میں ہم ملوث تھے۔
عمران خان نے خود ٹائیگر فورس سے خطاب کے دوران خواجہ آصف کا قصہ سنایا تھا اور ثبوت فراہم کیا تھا کہ وہ مقتدرہ کی مددسے جیت گئے۔
حکومتی وزراء اورمشیروں کی معلومات کا اس واقعہ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سیاحت کے مشیر ذلفی بخاری کوچترال جانا تھا انکے دفتر نے گلگت بلتستان کی حکومت کوخط لکھا کہ معاون خصوصی کو اس دورے کے دوران پروٹوکول فراہم کیاجائے شکر ہے کہ گلگت بلتستان کی حکومت نے معاون خصوصی کو آگاہ کیا کہ چترال انکے علاقے میں نہیں ہے بلکہ یہ خیبرپختونخوا میں ہے اگرحکومتی اکابرین کواپنے ملک کا جغرافیہ معلوم نہیں ہے تو ان سے بہتری کی کیاتوقع کی جاسکتی ہے۔
سابق اسپیکر ایاز صادق ان دنوں معقوب ہیں آخری اطلاعات تک انکے خلاف لاہور اور اسلام کے پولیس تھانوں میں غداری کے متعدد مقدمات درج کرلئے گئے ہیں ایسا مقدمہ سابق وزیراعظم نوازشریف اور ن لیگ کے متعدد رہنماؤں کیخلاف درج کیا گیا تھا لیکن حکومت نے بعدازاں باقی رہنماؤں کے نام واپس لے لئے صرف میاں نوازشریف کیخلاف مقدمہ رہنے دیا اس ایف آئی آر کے نتیجے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی لیکن ایازصادق کی گرفتاری کے امکانات زیادہ روشن ہیں کئی وزراء نے تویہ بھی کہا ہے کہ آرمی ایکٹ کے تحت انہیں گرفتار کیاجائے اگرہ وہ گرفتار ہوگئے تو عدالتوں سے بری ہوجائیں گے کیونکہ انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی جو غداری کے زمرے میں آتی ہولیکن اس ملک میں کچھ بھی ہوسکتاہے۔
چھوٹے صوبے کے لوگ کافی شاداں وفرحان ہیں کہ اس ملک کے عظیم محب وطن آپس میں لڑرہے ہیں اور ایک دوسرے کو غدار قراردے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ غداری کے الزام کاٹھیکہ انہوں نے نہیں اٹھارکھا ہے یہ دوسروں کے حصے میں ہی آنا چاہئے۔
اگر ن لیگ اور اسکی قیادت نے ایاز صادق کادفاع کیا اور میاں نوازشریف اپنے بیانیہ پرڈٹے رہے تو اسے خانہ جنگی کاآغاز کہاجاسکتا ہے ویسے بھی حکومتی رویہ سے حالات تیزی کے ساتھ خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہے ہیں اس مرتبہ میدان جنگ پنجاب ہے کیونکہ اس کی سیاسی قوتیں تقسیم ہیں جبکہ سارے بڑے اداروں کا تعلق پنجاب سے ہے اس پر طرہ یہ کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں وزراء اور مشیروں کاپارہ انتہائی ہائی ہے وہ روزگالم گلوچ اور دشنام طرازی سے کام لے رہے ہیں ایک خاتون ایم این اے نے ٹی وی پروگرام میں شاہ اویس نورانی کی موجودگی میں کہا کہ وہ اس پر لعنت بھیجتے ہیں بے چارے نورانی نے کہا کہ وہ اس کا جواب دینے کی بجائے مشتعل خاتون کے حق میں دعا سے کام لیں گے ایک حیرت کی بات یہ ہے کہ شبلی فراز کوہاٹی نے اس زبان کا استعمال تیز کردیا ہے جوکوہاٹ کے بازار میں مستعمل ہے انکے بیانات اور پریس کانفرنس قابل دیدنی ہوتی ہے موصوف کو خطرہ ہے کہ اگر یہ حکومت چلی گئی تو وہ یقینی طور پر سیاست سے آؤٹ ہوجائیں گے پھر ان کاسیاسی مستعمل ہمیشہ کیلئے معدوم ہوجائے گا کیونکہ انہیں دوبارہ تحریک انصاف جیسی جماعت ملنا ممکن نہیں ہے اس لئے وہ زورلگاکر اپنی حاضری لگاتے ہیں تاکہ نوکری پکی رہے افسوس ہے کہ وہ شہبازگل اور فیاض چوہان کی سطح تک گرگئے ہیں ان سے شائستگی کی جو توقع تھی وہ عنقا ہوچکی ہے۔
بیشتروفاقی وزراء نے رائے دی ہے کہ ن لیگ پر نیپ کی طرح پابندی عائد کردی جائے اور اسکے سرکردہ لیڈروں پر حیدرآباد سازش کیس کی طرح غداری کے مقدمات چلائے جائیں تحریکی حکومت تو پہلے سے ن لیگ کیخلاف کریک ڈاؤن چاہتی تھی لیکن حکام بالا نے انہیں روک رکھا تھا غالباً اب وہ صورتحال برقرارنہیں رہے گی بلکہ حکومت کے ہاتھ کھول دیئے جائیں گے تاکہ وہ اپوزیشن کو باالعموم اور ن لیگ کو بالخصوص درس عبرت بنادے یاد رکھنے کی بات ہے کہ جب بھٹو نے نیپ کیخلاف کارروائی کی تھی تو وہ آدھے خودمختار وزیراعظم تھے اور لوگوں کی بڑی تعداد کی حمایت انہیں حاصل تھی جبکہ موجودہ وزیراعظم ”کچے پکے“ ہیں انہیں ابھی تک اپنے وزیراعظم ہونے کا یقین نہیں ہے ان کاساراانحصار بیساکھیوں پرہے۔دوسری بات یہ کہ یہ1973ء نہیں بلکہ 2020ء ہے نوازشریف نے پنجاب میں جو بیانیہ تشکیل دیا ہے کافی لوگ قائل ہوگئے ہیں اگر حکومت نے غلطی کی تو ملک افراتفری اورخانہ جنگی کا شکار ہوجائے گا اس کی معیشت تو پہلے سے زبوں حالی کاشکار ہے وہ خانہ جنگی کا متحمل نہیں ہوسکتی بلکہ ڈوب جائے گی ریاست کو ڈیفالٹ کرنا پڑے گا دنیا اس کا مکمل طور پر ساتھ چھوڑدے گی اسے عالمی بائیکاٹ کاسامنا کرنا پڑے گا عوام مہنگائی اوربیروزگاری کی وجہ سے مزید تباہی وبربادی سے دوچار ہوجائیں گے۔سی پیک کے منصوبہ مکمل طور پر رک جائیں گے بلکہ الٹا چین قرضوں کی واپسی کا مطالبہ کرے گا اگر قرضے نہ اتارے جاسکے تو بہت کچھ کھونا پڑے گا۔
ان حالات میں ایک وسیع ڈائیلاگ کے آغاز کی ضرورت ہے جس کی تجویز ایک سال قبل سینیٹ کے سابق چیئرمین میاں رضا ربانی نے پیش کی تھی ان کے مطابق اسٹبلشمنٹ سیاستدانوں اور عدلیہ کے درمیان ڈائیلاگ ہوناچاہئے تاکہ یہ طے کیاجاسکے کہ ملک کو کس طرح چلایاجائے اگریہ طے نہ ہوسکا کہ ہرادارہ اپنی آئینی حدود کے اندر رہ کر کام کرے گا تو یہ ریاست ہمیشہ بے سمت اور پسماندہ ہی رہے گی
اس تجویز کی تائید گزشتہ روز سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے کی تھی حالانکہ انکے سپریم لیڈرمیاں نوازشریف نے حکومت سے کسی قسم کی گفت وشنید سے انکار کردیا تھا۔
وزیراعظم عمران خان نے دو روز قبل جرمنی کے ایک شہرہ آفاق میگزین کوانٹرویو دیتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ حکومتی امور کے بارے میں اپنی اہلیہ محترمہ سے مشورہ کرتے ہیں انکے مشورے کافی کارآمد ثابت ہوتے ہیں غالباً عمران خان مغل بادشاہ جہانگیر اور سلطنت عثمانیہ کے سلیمان عالیشان کے بعد تیسرے مسلمان حکمران ہیں جو بیگم کے مشوروں پر چلتے ہیں ملکہ نورجہاں تو بادشاہت بھی خود چلاتی تھیں جبکہ ”حورم سلطان“ اپنے شوہر نامدار کو حکومتی امور کے بارے میں وقتاً فوقتاً مشورے دیتی تھیں دونوں سابق بادشاہوں کازوال انکی بیگمات کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کی وجہ سے آیا تھا وزیراعظم کے انٹرویو سے پہلے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ وزیراعظم رات کے وقت مرادسعید اوردن کوذلفی بخاری سے مشورے کرتے ہیں لیکن اب غالباً انہوں نے اپنا طرزعمل تبدیل کردیاہے۔بہرحال ایاز صادق کے طوفانی بیان کے بعد ملکی صورتحال یکسر بدل گئی ہے نئی صف بندی ہورہی ہے لیکن خدشہ ہے کہ حکومتی وزیراورمشیر کہیں پورس کے ہاتھی ثابت نہ ہوجائیں کیونکہ ایک وزیرفوادچوہدری پورس کے ہم وطن ہیں ان کا تعلق بھی جہلم سے ہے پورس کے ہاتھی پالنے کی وجہ سے یہاں کے لوگ بھی کافی جسیم ثابت ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں