لاپتہ شخص بازیابی کیس، فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے پر دفاع و داخلہ کے سیکرٹریز طلب

اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاپتہ عمر عبد اللہ بازیابی کیس میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے پر سیکرٹری دفاع، سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری کیبنٹ، آئی جی اسلام آباد، ایس پی انویسٹی گیشن، ایس ایچ او اور تفتیشی افسرکو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے۔منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے لاپتہ عمر عبداللہ بازیابی کیس کی سماعت کی۔ افسران کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پرسماعت کی۔ دوران جسٹس محسن اختر کیانی عدالتی فیصلے پر عمل نہ کرنے پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیوں نہ فریقین کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے؟ عدالت نے جو حکم دیا تھا اس کا کیا بنا؟ سیکرٹری کابینہ کو معاملہ بھیجا تھا کہ متعلقہ افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے۔ سیکرٹری کابینہ نے معاملہ وزیر اعظم کے پاس بھیجنا تھا۔ آئی جی کے وکیل قیصر امام نے کہاکہ مسئلہ وہیں کا وہیں ہے،۔ کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ عدالت نے کہاکہ پانچ سال ہو گئے ہیں عدالتی حکم پر کب عملدرآمد ہو گا؟ آئی جی صاحب بھی خود پیش ہوئے تھے۔ درخواست گزار وکیل نے کہاکہ اب تو کمیشن کی رپورٹ بھی آ گئی ہے۔ انھوں نے بھی مانا کہ جبری گمشدگی ہوئی۔ عدالت نے کہاکہ اب کیا یہ ایک کام سارے ادارے کریں گے اور کوئی کام نہ کریں؟ عدالتیں بھی،کمیشن بھی، پولیس بھی سب کا ایک ہی کام رہ گیا ہے؟ عدالت نے سیکرٹری دفاع، سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری کیبنٹ، آئی جی اسلام آباد، ایس پی انویسٹی گیشن، ایس ایچ او اور تفتیشی افسر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 11 جنوری تک ملتوی کردی

اپنا تبصرہ بھیجیں