بلوچ روایات عظیم اخلاقی اقدار کے عکاس ہیں گالم گلوچ کی سیاست ختم ہونی چاہیئے۔سردار نصیر موسیانی
زہری(نمائندہ انتخاب)چیف آف موسیانی سردار نصیر احمد موسیانی نے اپنے جاری کردہ بیان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاہیکہ سماج میں رہنے والوں کو معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان اخلاقی اقدار کو اپنانا لازمی ہوتاہے اور اسی طرح سے ایسی افکار اور اعمال سے دور رہنا ہوتاہے کہ جن سے ایک دوسرے کے درمیان دوریاں اور نفرتیں پیدا ہوتے ہوں جب اخلاقی اصولوں کی پابندی نہیں کی جاتی اور روایات کا لحاظ نہیں رکھاجاتا تو سماج بدتہذیبی کا شکار ہوتاہےانہوں نے کہاکہ بلوچ قوم کے ہر فرد کو اخلاقی و معاشرتی اور نفسیاتی خطرات سے ہمہ وقت آگاہ ہونے کی سخت ضرورت ہے جو اپنے عظیم روایات اور اقدار کو اپنائے نہ جانے کی صورت میں سامنے آچکے اور مزید آسکتے ہیں کیونکہ جب روایات اور اخلاقی اصولوں کو پسِ پشت ڈالا جاتاہے تو سماج کی سلامتی خطرے میں پڑجاتی ہے۔ اُس سماج کے افراد کے درمیان تفرقہ ، دشمنی ،نفرت اور بغض پیدا ہوتاہے۔ جس سے پورا سماج اتنا کمزور ہوجاتاہے کہ وہ کسی بھی چیلنج اور مشکل کا سامنا نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہاکہ سیاسی اعتبار سے بات کی جائے تو ہرسیاسی کارکن کا بنیادی حق ہیکہ وہ اپنے سیاسی نظریے کی ترویج کرے۔ اگر کسی کے سیاسی سوچ و فکر اور سیاسی عمل سے اختلاف ہے تو اختلاف رائے کی حد تک ہو، سیاسی اختلافِ رائے میں قبائلی اور شخصی احترام کا خیال رکھنا ازحد لازمی ہے بالخصوص ہمارے بلوچ سماج میں سماجی ضابطوں، اقدار اور روایات کو مدنظر رکھنا بہت بہت ضروری ہے۔سردار نصیراحمد موسیانی نے کہاہیکہ آج کل سیاسی اختلاف کے نتیجے میں حقیقی سیاست سے نابلد لوگوں کی جانب سے سوشل میڈیا و دیگر سماجی روابط کے فورمز پر جو طوفانِ بدتمیزی برپا ہوتاہے یہ بلوچ سماج اور بلوچستان کی سیاست کیلئے انتہائی معیوب ہے۔ اس کے تدارک کی اشد ضرورت ہےانہوں نے کہاکہ میں تو سمجھتاہوں کہ ہمیں کسی بھی محفل میں اپنے قبیلے کے دوسروں سے افضل ہونے کے اظہار سے گریز کرنا چاہیئے۔ قبائلی اور سیاسی تعصب سے پاک سماج کیلئے ضروری ہیکہ تمام قبائل اور شخصیات کی قدر ہو، سیاسی تنقید کرتے وقت قبائلی اقدار کا خاص خیال رکھاجائے۔ سردار نصیراحمد موسیانی نے بلوچ قوم بالخصوص جھالاوان کے سیاسی و سماجی کارکنان اور قبائلی عمائدین کے نام پیغام کے طورپر کہاہیکہ ہماری رہن سہن، سیاست اور سیاسی رویے ہمارے سماج کی عکاسی کرتے ہیں، لہٰذا ہمیں اپنے قبائلی اور سیاسی اقدار کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے اپنے سماج کو بدتہذیبی اور غیرسیاسی ماحول سے بچاناچاہیئے۔ بلوچ روایات عظیم اخلاقی اقدار کے عکاس ہیں، بلوچ خطہ بہ یک وقت قبائلی اور سیاسی ہے۔ گالم گلوچ کی سیاست ختم ہونی چاہیئے۔ انہوں نے مزید کہاکہ بلوچ سماج کے ہر مہذّب فرد کی زمہ داری میں شامل ہوناچاہیئےکہ قبائلی تنازعات کو بڑھاوا دینے والوں اور حقیقی سیاست سے نابلد ناقدین کی فی الفور حوصلہ شکنی کرے اور سیاسی و سماجی استاد بن کر ایسے لوگوں کی تربیت کرے تاکہ سماج مزید بدتہذیبی کامتحمل نہ ہو


