وزیر اعلیٰ کا دورہ محض فوٹوسیشن تھا،بی این پی،نیشنل پارٹی
پسنی (بیورورپورٹ)وزیراعلی بلوچستان کا دورہ پسنی صرف فوٹو سیشن تھا،مخصوص لوگوں سے ملاقات کرکے چلے گئے یہ پسنی کے لوگوں کے ساتھ مذاق ہے اس سلسلے میں اتحادی جماعت نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے مقامی رہنماؤں نے پسنی پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس میں وزیراعلی بلوچستان کے حالیہ دورہ پسنی کو مذاق قرار دیا اور کہا کہ وزیراعلی بلوچستان کے دورہ سے پسنی کے لوگوں کو کچھ بھی فائدہ نہیں ہوا وزیراعلی صرف مخصوص لوگوں سے ملاقات کرکے چلے گئے پسنی پریس کلب میں منعقد پریس کانفرنس کے فرائض نیشنل پارٹی کے سلام اللہ،عبدالحکیم بلوچ،محسن بھٹو,بی این پی کی لالامرادجان اور شیخ احمد نے سرانجام دیے اس موقع پر اتحادی جماعت کے رہنماؤں نے کہا کہ پسنی کے عوام یہی سمجھے تھے کہ وزیراعلی بلوچستان آکر پسنی کے لیے کوئی میگا اعلان کرینگے لیکن وزیراعلی کا دورہ صرف فوٹوسیشن تک محدود رہا کیونکہ پسنی کیجتنے بھی اہم مسائل ہیں اُن پر کوئی توجہ نہیں دیاگیا پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ پسنی فش ہاربر کی بحالی پر وزیراعلی بلوچستان کوئی جامع پلان نہ بتاسکے اور نہ ہی اسکی بحالی کے لیے کوئی اعلان کیا گیا ہم یہی سمجھتے ہیں کہ بی اے پی کی حکومت پسنی کے مسائل پر چشم پوشی اختیار کررہی ہے پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ پسنی کے سمندر میں غیرقانونی ٹرالنگ کی وجہ سے ماہی گیر اب ایک وقت کی روٹی کا بھی محتاج ہوچکے ہیں غیرقانونی ٹرالنگ پر قابو نہیں پایا جارہا اور غیرمقامی افسران جنہیں ماہی گیروں کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے اُنہیں ہم پر مسلط کردیاگیا ہے غیرقانونی سوال کے جواب پر بھی وزیراعلی کوئی معقول جواب نہیں دے پائے ہیں پریس کانفرنس میں مزید بتایا گیا کہ 1992میں بنائی گئی زرین ہاؤسنگ اسکیم کے پیسوں کی خرد برد پر بھی وزیراعلی نے کوئی ایکشن لینے کی بات نہیں کی حالانکہ سب کو پتہ ہے کہ زرین ہاؤسنگ اسکیم میں جمع کیے گئے پیسے کیسے غائب ہوچکے ہیں اور دوسری جانب لینڈ مافیا زرین ہاؤسنگ اسکیم کی اراضیات پر قبضہ کرچکی ہے وزیراعلی.بلوچستان کے نوٹس میں ہونے کے باوجود وہ اِس پر خاموش رہا پریس کانفرنس میں مذید بتایا گیا کہ RHCپسنی کے بیس کروڈ روپے کے فنڈز کو ضلع سے کٹوتی کرکے صرف دس کروڈ روپے دیے گئے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ پسنی کے ساتھ ظلم ہے اور پسنی کے ہسپتال میں صرف تین ڈاکٹر ہیں اور ڈاکٹروں میں اضافہ نہیں کیا جارہا جبکہ شادی کور ڈیم کو بنے ہوئے کافی عرضہ گزر چکا ہے لیکن پسنی کو بزریعہ پائپ لائن صاف پانی کی فراہمی ابھی بھی نہیں ہورہی اس پر بھی وزیراعلی بلوچستان نے کوئی اعلان نہیں کیا ہم یہی سمجھتے ہیں کہ وزیراعلی بلوچستان کا دورہ صرف اور صرف ایک فوٹو سیشن تھا اس پریس کانفرنس کی توسط سے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پسنی کے انٹرکالج کو ڈگری کا درجہ دیاجائے اور لیکچرار کی کمی کو پورا کیا جائے جبکہ گرلز کالج کے قیام کو یقینی بنایا جائے کیونکہ ہر سال پسنی کے مختلف گرلز اسکولوں سے چارسو کے قریب بچیاں میٹرک کرتی ہیں گرلز کالج نہ ہونے کی وجہ سے وہ شام کے وقت بوائز کالج میں پڑھنے پر مجبور ہیں۔ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں کو غیرقانونی ٹرالنگ سے محفوظ بنایا جائے غیرقانونی ٹرالنگ ہر سال بڑھ رہی ہے اسکی سب سے بڑی وجہ محکمہ فشریز کے نیچے سے لیکر اوپر تک کے تمام افسران کی بھتہ خوری ہے ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ مستانی ریت کے متاثرین کو فوری طور پر زمین الاٹ کی جائے اور وفاق نے بلوچستان کے جزائر پر قبضہ کرنے کے لیے جو صدارتی آرڈی نس پاس کیا ہے اسے کالعدم قرار دیاجائے۔پسنی گریڈ اسٹیشن سے لیکر شہر تک تمام کھمبے اور تاریں بوسیدہ ہوچکی ہیں جسکی وجہ سے بجلی کا بحران رہتا ہے لہذا فیڈر ون اور فیڈر ٹو کے بوسیدہ تاریں تبدیل کی جائیں اور پسنی میں لوہے کے پی سی پول نصب کیے جائیں اور ہر محلہ میں دوسو والٹ کے ٹرانسفارمر نصب کیے جائیں۔پریس کانفرنس میں نیشنل پارٹی کے خدابخش سعید،ندیم یاسین،ابولخیرشاہ،ریاض دلوش،حفیظ عباس،ڈاکٹر عبدالواحد،جبکہ بی این پی کے کیپٹن کریم بخش،مجید عزیز،واحد باہوٹ،نصیب بلوچ،نیاز نواب اوردیگر کارکنان بھی موجود تھے


