پی آئی اے کو خسارے میں جانے کی بڑی وجہ ہزاروں کی تعداد میں موجود غیر ضروری ملازمین قرار

کراچی:پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن(پی آئی اے)کے ترجمان عبداللہ نے قومی ایئر لائن خسارے میں جانے کی بڑی وجہ ہزاروں کی تعداد میں موجود غیر ضروری ملازمین کوقرار دیتے ہوئے کہاہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پی آئی اے ملازمین کے رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اسکیم کی منظوری دے دی تاہم حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی جس کے بعد ساڑھے تین ہزار ملازمین کو گھر جانا پڑے گا۔ترجمان پی آئی اے نے کہاکہ حکومت کی جانب سے رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اسکیم کیلیے 12 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ساڑھے تین ہزار ملازمین کے نوکری چھوڑنے سے قومی ایئر لائن کو سالانہ 4.2 سے ساڑھے 4 ارب کی بچت ہوگی۔ترجمان پی آئی اے نے بتایا کہ تین سے 4 سال پہلے تک پی آئی اے کے پاس تیس جہاز تھے اور ملازمین کی تعداد 17 سے 18 ہزار تھی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران پی آئی اے کے ملازمین کی تعداد کافی حد تک کنٹرول ہوئی اور رواں برس کے اختتام تک ملازمین کی تعداد 7 سے 8 ہزار تک آجائے گی۔واضح رہے کہ دنیا کی بڑی بڑی ایئرلائن کمپنیز کے پاس فی جہاز 50 سے 150 ملازمین تک ہوتے ہیں جبکہ کچھ عرصہ پہلے تک پی آئی اے کے پاس فی جہاز ملازمین کی تعداد 800 تک پہنچ گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں