اساتذہ کی بھرتیوں کے حوالے سے جلد کمیشن کے حکام سے رابطہ کیاجائے گا،سردار یار محمدرند


کوئٹہ:وزیر تعلیم بلوچستان سرار یار محمد رند نے کہا ہے کہ صوبے کے وسائل کو لوٹنے والوں کا احتساب ہونا چائیے بلوچستان کے دستیاب وسائل صحیح خرچ ہوجائیں تو صوبہ خوشحال ہوگا صوبے کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی شدید کمی کا سامنا ہے1200استاتذہ کی بھرتی کی منظوری کے بعد کوشش ہے کہ اس کمی کو جلد پورا کیاجائے بہترین تعلیمی کارکردگی کے حامل افراد ہی اچھی ملازمت پر فائز ہونے کے حقدار ہیں۔یہ بات انہوں نے ہفتہ کو کوئٹہ میں میٹرک کے سالانہ امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء وطالبات میں چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی،تقریب میں بے نظیر بھٹو اسکالر شپ کے تحت63 ٹاپرز کو2،2لاکھ روپے کے چیک اور اعزازی شیلڈ اور تعارفی اسناد دئیے گئے، صوبے کے تمام اضلاع کے سرکاری اسکولوں کے ان طلبا وطالبات نے2018 میں میٹرک کے سالانہ امتحانات میں نمایاں نمبرز حاصل کیے تھے صوبائی وزیر تعلیم کا مزید کہنا تھا کہ بے نظیر اسکالر شپ اچھا قدم ہے اسے شروع کرنے والوں کو سراہنا چائیے،ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کا سامنا ہے، فوری طور پر 1200اساتذہ کی ڈیمانڈ کی تھی،صوبائی حکومت نے منظوری دے دی ہے،اساتذہ کی بھرتیوں کے حوالے سے جلد کمیشن کے حکام سے رابطہ کیاجائے گاسردار یار محمد رند کا کہناتھا کہ ماضی میں بلوچستان کے پیسے کو ضائع کیاگیا، وسائل کو لوٹاگیا، وسائل کو لوٹنے والوں کا احتساب ہونا چائیے، انکا کہنا تھا کہ بلوچستان کے وسائل صحیح استعمال نہیں کئے گئے دستیاب وسائل صحیح خرچ ہوجائیں تو صوبہ خوشحال ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں