لیاقت سنی کا اغوا،حکومتی کارکردگی پرسوالیہ نشان ہے،اخترحسین لانگو
کوئٹہ ۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کی مرکزی سنٹرل کونسل کے رکن و پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چئیرمین میر اختر حسین لانگو بی این پی ضلع کوئٹہ کے صدر و رکن صوبائی اسمبلی میر احمد نواز بلوچ نے جامعہ بلوچستان کے پروفیسر لیاقت سنی کے اغواء کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکومت پر کڑی تنقید کی ہے بی این پی ضلع کوئٹہ کے سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں بی این پی کے اراکین اسمبلی نے کہا کہ بلوچستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کا دعوی کرنے والے حکمران صوبائی دارلحکومت سے محض چند گھنٹوں کی مسافت پر واقع علاقے میں امن کی بحالی میں ناکام ہیں جامعہ بلوچستان کے پروفیسر لیاقت علی سنی کا دن دیہاڑے اغواء قیام امن کے مقاصد کے لئے اربوں روپے خرچ کرنے والی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے اور صوبائی حکومت کے ان دعووں کی نفی ہے جس میں بحالی امن کا راگ الاپا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ پروفیسر لیاقت سنی کا اغواء ایک عام واقعہ نہیں بلکہ بلوچستان کے جوانوں اور درس و تدریس سے وابستہ افراد کو تعلیم سے دور کرنے کا ایک حربہ ہے پروفیسر کے اغواء سے بحالی کے دعووں کی قلعی کھل گئی ہے اور یہ واضع ہوا ہے کہ عوام حکومتی اقدامات نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد کے رحم و کرم پر ہیں پروفیسر لیاقت سنی کے اغواء سے صوبے بھر میں ایک بے چینی پائی جاتی ہے تاہم عوامی رد عمل اور پریشانی کے قطع نظر وزیر اعلی بلوچستان جیپ ریلیوں میں شرکت اور حکومتی ہیلی کاپٹر میں عوامی وسائل پر باہر کے مہمانوں کی خاطر مدارت میں مصروف عمل نظر آتے ہیں میر اختر حسین لانگو اور میر احمد نواز بلوچ نے کہا کہ بی این پی پروفیسر لیاقت سنی کے اغواء کو تعلیم دشمنی پر مبنی جرائم کا ایک ایسا سنگین جرم سمجھتی ہے جو بلوچستان کے جوانوں اور درس و تدریس سے وابستہ افراد کو خوف و ہراس میں مبتلا کر کے ان سے کتاب چھیننے کا سبب ہے بی این پی مغوی پروفیسر کی فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے درس و تدریس سے وابستہ افراد کو یقین دلاتی ہے کہ بلوچستان میں اساتذہ کے تحفظ کے لئے ہر فورم پر آواز بلند کی جائے


