پنجگور،پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کا احتجاجی مظاہرہ
پنجگور۔(نامہ نگار)پنجگور اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد پی ڈی ایم کے مرکزی کال پر ملتان اور دیگر علاقوں میں پی ڈی ایم کے کارکنوں کی گرفتاری اور جھوٹے مقدمات قائم کرنے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ریلی پنجگور بازار کے مختلف گلیوں میں گشت کرتے ہوئے مین چوک پر جلسہ کی شکل اختیار کر لیا۔ریلی کے شرکاء کے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز تھے جس میں موجود حکومت کی پالیسیوں اور ظلم کے خلاف نعرے درج تھے۔ احتجاجی مظاہرے سے جمیعت علماء اسلام کے ضلعی امیر اور پی ڈی ایم کے ضلعی سربراہ حافظ محمد اعظم بلوچ۔ بی این پی کے مرکزی جوائنٹ سیکریٹری میر نذیر احمد۔نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر حاجی صالح محمد۔مرکزی رہنما پھلین بلوچ۔بی این پی کے ضلعی صدر کفایت اللہ بلوچ۔ ۔۔جمیعت علماء اسلام کے ضلعی نائب امیر مولانا عبدالحئی۔ مسلم لیگ ن کے رہنماء اشرف ساگر بلوچ۔کامریڑ نصیر احمد۔ اور دیگر نے خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ناکام پالیسیوں اور نااہلی کی وجہ سے تمام ادارے مفلوج اور عوام اذیت میں مبتلا ہیں۔ایک کروڑ نوکری اور پچاس لاکھ گھر دینے کا وعدہ کرکے لاکھوں ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کردیا۔ ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ خود کشی موجودہ حکومت کے دور میں ہوئی ہے۔ عمران نیازی نے کہا تھا ک اگر توڈے سے لوگ میرے حکومت کے خلاف نکلے تو میں استعفی دونگا۔ باقی علاقے اپنی جگہ آج تو پنجگور جیسے پسماندہ علاقے میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔پی ڈی ایم میں شامل 11 جماعتوں کے لاکھوں کارکن ملک بھر میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اقتدار میں لانے ولے سیلیکٹرز بھی ان کی ناکامی اور نااہلی سے تنگ اور پریشان ہیں اب وہ ان کو محفوظ راستے سے باہر نکالنے کیلئے سوچ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 13 دسمبر کو لاہور میں پی ڈی ایم کا تاریخی جلسہ عام حکومت کے خلاف ریفرنڈم ہوگا۔اور حکومت عوامی سیلاب میں بہ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری کا راج ہے۔مزدور اور عام غریب لوگ نان شبینہ کے محتاج ہوگئے۔عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ مقررین نے کہا کہ پنجگور میں بدامنی اور لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ شام ڈھلتے شہر میں چوری اور ڈکیتی کا بازار گرم پوتا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے چیک پوسٹ پر بھتہ خوری میں مصروف ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پولیس اور لیویز کے چیک پوسٹ پر تیل بردار گاڑیوں سے بھتہ بھی لیا جاتاہے اور ڈرائیورز کی تذلیل بھی کی جاتی ہے۔ پنجگور میں ایک درجن سے زائد چیک پوسٹوں پر ماہانہ کروڑں روپے کمایا جاتا ہے آخری یہ رقم کس کے جیب میں چلے جاتے ہیں اور کس قانونی کے تحت بھتہ لیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز پولیس کے ہاتھوں پنجگور تسپ کے سماجی شخصیت صابر سلیمان کا قتل کھلی دہشت گردی ہے جسکی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔پنجگور پولیس عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے شریف شہریوں کو اپنے گولیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ صابر سلیمان کو شہید کرنے کے بعد قاتل مقتول کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرتاہے۔ جو کہ ایک شرمناک عمل ہے۔۔ اور پولیس نے شہید صابر سلیمان کے کئی رشتیداروں اور ان کے بیٹے کے خلاف ناجائز مقدمات درج کئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مشکل کی اس گھڑی میں صابر سلیمان کے خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں۔اور بلوچستان ہائیکورٹ سے اس واقعہ کے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اور مطالبہ کرتے ہیں کہ صابر سلیمان کے خاندان کو انصاف فراہم کی جائے


