بھارت دہشتگردی کے حوالے سے پاکستانی ڈوزئیر کا جواب دنیا کو نہیں دے سکا: شاہ محمود
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے حوالے سے بھارت پاکستان کے ڈوزئیر کا جواب دنیا کو نہیں دے سکا۔
ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ او آئی سی کی قرارداد میں مشترکہ طور پر ہندوستان کی کشمیر پالیسی مسترد کی گئی جب کہ خود ہندوستان میں بھی کشمیر کی پالیسی پر اتفاق رائے نہیں رہا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ او آئی سی کے 47 ویں اجلاس میں 57 ملکوں نے بابری مسجد کی شہادت کی مذمت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ آج ہندوستان دفاعی پوزیشن میں چلا گیا ہے، ہندوستان کلبھوشن جادھو کا کیس عالمی عدالت میں لے کر گیا لیکن اسے ناکامی ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ آئی سی جے کے فیصلے کے مطابق بھارت کو 2 مرتبہ قونصلر رسائی دی گئی، تیسری بار بھارت یہ سہولت نہیں لے رہا۔
اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں جمع کرائے گئے ڈوزیئر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان کے ڈوزئیر کا جواب دنیا کو نہیں دے سکا۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ او آئی سی کے اجلاس میں فلسطین پر واضح مؤقف آیا ہے، پاکستان میں بھی اسرائیل کے حوالے سے قیاس آرائیاں تھیں لیکن اب انہیں دم توڑ دینا چاہیے۔
نو منتخب امریکی صدر سے متعلق سوال پر وزیر خارجہ کا کہنا تھا میری رائے میں بائیڈن کی انتظامیہ کی سوچ ٹرمپ انتظامیہ سے مختلف ہے، بائیڈن انتظامیہ تصادم کے بجائے بلکہ مذاکرات کو ترجیح دے گی۔
افغان سرحد کے ساتھ باڑ لگانے کے حوالے سے سوال پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بارڈر کو محفوظ کرنے کے لیے باڑ لگائی ہے، ہم چاہ رہے ہیں کہ افغان امن عمل آگے بڑھے، اگر افغانستان پاکستان کا تعاون چاہتا ہے تو ہماری حکمت عملی کو سمجھے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عمران خان طویل جدوجہد کے بعد عوامی مینڈیٹ لے کر آئے ہیں، قلعہ کہنہ قاسم باغ اور مینار پاکستان پر عمران خان کے جلسے عوام نے دیکھے تھے اور حقائق کے مطابق پی ٹی آئی اور عمران خان ایک سیاسی حقیقت بن چکے ہیں۔


