ایرانی صحافی روح اللہ زم کی عدالتِ عظمیٰ سے بھی سزائے موت برقرار
تہران :ایران کی عدالتِ عظمی نے ملک میں تین سال قبل احتجاجی مظاہروں کو منظم کرنے کے لیے آن لائن مہم چلانے والے صحافی کوسنائی گئی سزائے موت برقرار رکھی ہے۔ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی نے عدلیہ کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی کے حوالے سے بتایا کہ عدالت عظمی نے روح اللہ زم کو سنائی گئی سزائے موت کی توثیق کردی ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ عدالت نے یہ حکم کب جاری کیا تھا اور پابند سلاسل صحافی کو کب تختہ دار پر لٹکایا جائے گا۔ایرانی قانون کے تحت زم عدالتِ عظمی کے اس فیصلے کے خلاف ایک اور اپیل دائر کرسکتے ہیں اور عدلیہ کے سربراہ کو سزائے موت کو منسوخ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔اس کے علاوہ وہ ماتحت عدالتوں میں شریعت کے منافی کارروائی کی صورت میں دوبارہ مقدمے کی سماعت کا حکم دے سکتے ہیں۔واضح رہے کہ جون میں ایک ایرانی عدالت نے روح زم کو سزائے موت سنائی تھی اور انھیں فساد فی الارضکا مجرم قرار دیا تھا۔ایران میں ایسے افراد پر بالعموم جاسوسی میں ملوث ہونے کے الزامات عاید کیے جاتے ہیں یا انھیں حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش پر قصور وار قرار دیا جاتا ہے۔


