پلی بارگین کرنے والے ملزمان پر قانون کے مطابق سزائیں لاگو ہوتی ہیں‘نیب
اسلام آباد :پلی بارگین کرنے والے ملزمان پر قانون کے مطابق تمام سزائیں لاگو ہوتی ہیں،ملزم پلی بار گین کی درخواست میں نہ صرف اپنے جرم کا اعتراف کرتاہے بلکہ لوٹی گئی مجموعی واجب الادا رقم اداکرتاہے۔ بدعنوانی تمام برائیوں کی ماں ہے جو ملک کی ترقی و خوشحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، نیب کا قیام بدعنوانی کے خاتمے اور بدعنوان عناصر سے لوٹی ہوئی رقم کی وصولی اور قومی خزانے میں جمع کرنے کیلئے عمل میں لایا گیا تھا، نیب نے چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی متحرک قیادت میں سب کیلئے احتساب کی اپنی پالیسی کے ذریعے نہ صرف بڑی مچھلیوں کو گرفتار کیا بلکہ بدعنوان عناصر سے 466 ارب روپے کی لوٹی ہوئی رقم برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائی۔.نیب اعلامیہ کے مطابق نیب نے نہ صرف سب کا احتساب یقینی بنانے کا وعدہ کیا بلکہ اپنی بلا امتیاز احتساب کی پالیسی پرکامیابی سے عمل کیا۔ قومی احتساب بیورو نیب ہیڈ کوارٹرز کے ساتھ ساتھ نیب کے تمام ریجنل بیوروز کی کارکردگی کا جائزہ لیاجاتاہے، افسران کی کارکردگی میں بہتری کیلئے ان کی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔نیب چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی متحرک قیادت میں خود احتسابی پر پختہ یقین رکھتاہے۔


