وہ فلم جسے ایک بار ضرور دیکھنا چاہیے

عام طور پر سست رفتار اور جیلوں کے قیدیوں کے گرد گھومنے والی فلمیں بہت کم لوگوں کو پسند آتی ہیں۔

اگر آپ بھی ان میں سے ایک ہیں تو ہوسکتا ہے کہ ایسی بہترین فلم دیکھنے سے گریز کیا ہو جس کو زندگی میں کم از کم ایک بار ضرور دیکھنا چاہیے۔

21 سال پرانی یہ فلم اب بھی بالکل نئی محسوس ہوتی ہے کیونکہ اس میں جس عہد کی عکاسی کی گئی وہ 1930 کی دہائی کا ہے۔تحریر جاری ہے‎

ایسا دعویٰ تو نہیں کرنا چاہیے مگر کافی حد تک درست ہے کہ اس فلم کو دیکھ کر پتھر دل بھی پگھل سکتا ہے کیونکہ کہانی، اداکاری، ڈائریکشن سب کمال کے ہیں۔

اور یہ فلم ہے 1999 کی دی گرین میل، جس میں ٹام ہینکس، مائیکل کلارک ڈنکن نے مرکزی کردار ادا کیے جبکہ سپورٹ کاسٹ نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

یقین کرنا مشکل ہوگا مگر یہ فلم ہارر فلموں کے لیے معروف اسٹیفن کنگ کے اسی نام کے ناول پر مبنی تھی جس کا اسکرین پہلے ڈائریکٹر فرینک ڈاربونٹ نے تحریر کیا۔

یہ وہی ڈائریکٹر ہیں جن کی ایک اور فلم سشانک ریڈیمپشن دنیا کی ہر دور کی سب سے بہترین فلموں میں سے ایک مانی جاتی ہے اور دی گرین میل بھی اس طرح کی فہرستوں میں کسی نہ کسی نمبر پر ہوتی ہے۔

اس فلم کو 4 آسکر ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا تھا جن میں بہترین فلم اور سپورٹ ایکٹر (مائیکل کلارک ڈنکن) شامل تھے مگر بدقسمتی سے کوی ایوارڈ اپنے نام نہیں کرسکی۔

پلاٹ

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

فلم کا آغاز 1999 میں ہوتا ہے جہاں ایک لیونگ ہوم میں مقیم پال ایج کومب ایک پرانی فلم ٹاپ ہیٹ کو دیکھتے ہوئے جذباتی ہوجاتا ہے اور ساتھی کے پوچھنے پر بتایا کہ اس فلم نے اس کے ذہن میں 1935 کے واقعات کو تازہ کردیا، جب وہ سزائے موت کے ایک مرکز دی گرین میل میں افسر تھا۔

اس کے بعد فلم ماضی میں چلی جاتی ہے جہاں پال 4 افسران بروٹس ہوول، ڈین اسٹینن، ہیری ٹیرویلگر اور پرسی ویٹ مور کا سپروائرز ہوتا ہے اور وہاں ایک قیدی جان کوفی کو لایا جاتا ہے جو 7 فٹ کا لمبا چوڑا سیاہ فام شخص ہے جسے 2 بچیوں کے ریپ اور قتل پر سزائے موت سنائی گئی ہے۔

جیل میں پہلے سے 2 قیدی ہوتے ہیں جن میں سے ایک کا دوست ایک چوہا بن جاتا ہے جسے وہ مسٹر جینگلز کا نام دیتا ہے مگر پرسی کا رویہ بہت سخت دکھایا گیا ہے۔

جان کوفی پر الزام تو ہے مگر حقیقت میں وہ بہت نرم دل انسان دکھایا گیا ہے جس کے قبضے میں دوسروں کو صحت یاب کرنے کی حیران کن طاقت ہے۔

پہلے وہ پال ایج کومب کے مثانے کے انفیکشن کو ٹھیک کرتا ہے اور پھر پرسی کی جانب سے مسٹر جینگلز کو مارے جانے پر اسے حیران کن طور پر زندہ بھی کردیتا ہے۔

ان کرشموں کو دیکھ کر پال کو شبہ ہونے لگتا ہے کہ اس نے واقعی بوں کے ساتھ بہیمانہ جرائم کیے بھی ہیں یا نہیں جبکہ اس دوران ایک نیا قیدی مسائل کا باعث بننے لگتا ہے۔

پال کی تحقیقات میں کیا معلوم ہوتا ہے اور فلم میں آگے کیا کچھ ہوتا ہے، وہ تو دیکھ کر جاننا ہی بہتر ہوگا ورنہ سارا مزہ ختم ہوجائے گا۔

مگر 189 منٹ طویل یہ فلم آپ کو کسی بھی لمحے اسکرین سے نظر ہٹانے نہیں دے گی بلکہ پتا ہی نہیں چلے گا کہ اتنا طویل وقت گزر گیا جبکہ اس کا اختتام ذہن پر ایسا اثر مرتب کرے گا جس سے بہت جلد نکلنا ممکن نہیں ہوگا۔

فلم سے جڑے چند دلچسپ حقائق

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

اس فلم کے حوالے سے چند دلچسپ حقائق درج ذیل ہیں:

کہانی کا مرکزی خیال ڈائریکٹر کو فوری پسند آگیا تھا اور انہوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ اسے ناول جتنا ہی دلچسپ بنایا جائے، تو اس اسٹیفن کنگ نے اپنے ناول کو مختلف حصوں میں جاری کیا تاکہ قارئین براہ راست آخری صفحے پر جاکر یہ نہ دیکھ سکیں کہ کہانی کا اختتام کیسے ہوا، یہاں تک کہ مصنف کو خود علم نہیں کہ ان کا کردار زندہ رہتا ہے یا نہیں۔

اس فلم کے مرکزی کردار کے لیے ٹام ہینکس سے پہلے جان ٹروالٹا کے بارے میں غور کیا گیا تھا مگر انہوں نے انکار کردیا، ٹام ہینکس بھی آغاز میں اسکرپٹ سے زیادہ متاثر نہیں ہوئے مگر اس لیے تیار ہوگئے کیونکہ انہوں نے فورسٹ گمپ کے لیے سشانک ریڈیمپشن کے کردار کے لیے ڈائریکٹر کو انکار کیا تھا، جس پر وہ پچھتاوا محسوس کرتے تھے۔

فلم میں چوہے کا کردار بھی بہت اہم تھا اور اس مقصد کے لیے 15 تربیت یافتہ وہے استعمال کیے گئے اور فلم کی تربیت دینے کے لیے بھی کئی ماہ کا عرصہ لگا۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

جان کوفی کا کردار بہت مشکل تھا اور اس کے لیے ایک اچھے اداکار کی تلاش کافی مشکل ہوئی، مگر بروس ولز نے مائیکل کلارک ڈنکن کا تجویز کیا جو ان کے ساتھ آرماگیڈن میں کام کرکے تھے۔

مائیکل کلارک ڈنکن کا قد لمبا تو ضرور تھا مگر اتنا نہیں جتنا کردار کے لیے درکار تھا، تو اس مقصد کے لیے درست اینگلز، مختلف پلیٹ فارمز اور دیگر طریقوں سے مدد لی جبکہ بستر دانستہ چھوٹا بنایا گیا تاکہ وہ عظیم الجثہ محسوس ہوں۔

مائیکل ڈنکن کی اداکاری اتنی حقیقی اور زبردست تھی کہ فلم بندی کے دوران عملے کے اراکین اختتامی مناظر میں خود کو رونے سے روک نہیں سکے۔

اسکرین شاٹ

اس فلم کے لیے ٹام ہینکس نے اپنا وزن بڑھایا تھا مگر اگلی فلم کاسٹ اوے کے لیے فوری طور پر وزن کو گھٹایا بھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم میں قیدیوں کو سزائے موت برقی کرسیوں کے ذریعے دی گئی تھی مگر اس عہد میں قیدیوں کو پھانسی دی جاتی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں