کراچی: 2 روز میں 3 ڈاکٹرز کی کووڈ 19 سے اموات نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

کراچی: شہر میں گزشتہ 2 روز کے دوران سابق ڈائریکٹر جنرل صحت سمیت 3 سینئر ڈاکٹرز کی کووڈ 19 کی وجہ سے موت نے صحت کی سہولیات فراہم کرنے والوں میں خطرے کی لہر دوڑا دی ہے۔رپورٹ کے مطابق صوبہ سندھ میں اب تک 46 ڈاکٹرز کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کرچکے ہیں جس میں سے 26 کا تعلق کراچی سے تھا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر وسیم الدین ماہر امراض اطفال تھے جبکہ پروفیسر عبدالستار کورائی سندھ کے سابق ڈائریکٹر جنرل صحت اور ماہر آنکھ، ناک اور گلا (ای این ٹی) تھے۔

اسی طرح ڈاکٹر طاہر امین چوہدری جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر سے بطور چیف انستھیٹسٹ ریٹائرڈ ہوئے تھے۔ڈاکٹر وسیم الدین کا انتقال جمعہ کی صبح ہوا جبکہ ڈاکٹر عبدالستار کورائی اور ڈاکٹر طاہر امید چوہدری جمعرات کی رات کو خالق حقیقی سے جاملے۔

ادھر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کی جانب سے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں اب تک 142 ڈاکٹرز کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کرچکے ہیں، جس میں 61 پنجاب میں، 46 سندھ میں، 26 خیبرپختونخوا میں، 5 بلوچستان میں، ایک گلگت بلتستان میں اور 3 آزاد جموں و کشمیر میں تھے۔اس کے علاوہ ملک بھر میں 26 پیرامیڈکس بھی کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کرچکے ہیں جس میں سے 5 کراچی میں کام کرتے تھے۔

دوسری جانب پی ایم اے کی نمائندگی کرنے والے ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا تھا کہ ’صورتحال فوری طور پر تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہے تاکہ دیکھا جاسکے کہ کیوں اتنے ڈاکٹرز کووڈ 19 سے متاثر ہوکر انتقال کر رہے ہیں‘، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’اگر یہ نہیں کیا گیا تو مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہوگا کیونکہ ملک پہلے ہی ڈاکٹرز کی کمی کا سامنا کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کئی ڈاکٹرز آئیسولیشن میں ہیں جبکہ کئی نے کووڈ 19 انفیکشن کے خطرے کے پیش نظر اپنی پریکٹس روک دی ہے۔

صحت کی دیکھ بھال کرنے والوں خاص طور پر ڈاکٹز میں کووڈ 19 انفیکشن کی شرح زیادہ ہونے کے عوامل سے متعلق ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز کو مناسب تحفظ نہیں مل رہا جو اس طرف اشارہ ہے کہ ہسپتالوں میں ذاتی تحفظ کے سامان کی شدید قلت ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز برے حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں، صحت مراکز کے داخلی اور خارجی راستوں پر کوئی دیکھنے والا نہیں ہے، جو اسٹاف کے درمیان انفیکشن کے امکانات کو بڑھا رہا ہے۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کو طویل ڈیوٹی کے بعد بیٹھنے اور آرام کرنے کے لیے اکثر کمرے فراہم نہیں کیے گئے۔ڈاکٹر قیصر کا یہ بھی کہنا تھا کہ دوسری لہر کے ساتھ ہی لوگ مزید مطمئن ہیں اور وہ تمام حفاظتی اقدامات چھوڑ دیے ہیں جو پہلے کر رہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ہر کسی کو بغیر کوئی نگرانی کے ہسپتال میں آنے کی اجازت ہے، مریض کے ساتھ آنے والوں کی تعداد پر بھی کوئی حد نہیں ہے حالانکہ پہلی لہر کے دوران اسے محدود کیا گیا تھا۔

ادھر ڈاکٹر قیصر سجاد کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ایم اے کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ زیادہ تر ڈاکٹرز ’نان کووڈ‘ مریضوں کی دیکھ بھال کے دوران کورونا وائرس کا شکار ہوئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ دراصل یہ لوگ اے سپٹومیٹک (بغیر علامات کے) کورونا مریض تھے، لہٰذا تمام مریضوں کو اس وقت تک مشتبہ کورونا وائرس کے مریض کے طور پر دیکھنا چاہیے جب تک لیبارٹری کی رپورٹ یہ ظاہر نہ کردے کہ یہ مریض کورونا وائرس نیگیٹو ہے۔

علاوہ ازیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ ڈاکٹرز نجی محافل میں وائرس کا شکار ہورہے ہیں۔واضح رہے کہ وزارت صحت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 10 ہزار 928 ہیلتھ کیئر ورکرز کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جس میں 6 ہزار 791 ڈاکٹرز، ایک ہزار 360 نرسز اور 2 ہزار 774 ہسپتال کا اسٹاف ہے۔تاہم مجموعی طور پر 10 ہزار 38 ہیلتھ کیئر ورکرز صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 666 وائرس کی تشخیص کے بعد آئیسولیشن میں ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں