پنجگور سے خواتین و بچوں سمیت لاپتہ 9افراد کو بازیاب کیا جائے، حوران بلوچ
انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ٗبلوچ لائیوز میٹر ( بی ایل ایم ) کی حوران بلوچ نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوۓ کہا کہ بلوچستان میں ہونے والی انسانیت سوز واقعات اب مزید شدت اختیار کرچکے ہیں، آئے روز بلوچ فرزندوں کو اغواء کرنا اور انہیں سالوں تک ٹارچر کرنے کے بعد چند ایک کی ذہنی توازن بگھاڑ کر رہا کردیا جاتا ہے جبکہ کئیوں کو غیر انسانی تشدد سے گزارنے کے بعد مار کر بغیر کفن کے درگور کیا جاتا ہے۔ آپریشنز میں اب تک ہزاروں کی تعداد میں بلوچ لاپتہ اور شہید ہوچکے ہیں، سینکڑوں غریبوں کے گھر جلا کر انہیں بے گھر کر کے نکل مکانی پر مجبور کردیا گیا ہے۔ اب المیہ یہ ہے کہ بلوچ قوم کو دی جانے والی اس اجتماعی سزا میں شاید کوئی کسر باقی رہ گیا تھا جسے پورا کرنے کے کیلئےاب بے گناہ خواتین اور کمسن بچوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا گیاہے۔
حوارن بلوچ نے کہا کہ گزشتہ ماہ کے آخر اور رواں ماہ کی تین تاریخ کو بلوچستان کے ضلع پنجگور کے علاقے گچک سے مختلف چھاپوں اور آپریشنز کے دوران اب تک دو خواتین اور دو بچوں سمیت 9 افراد حراست کے بعد لاپتہ ہوچکے ہیں۔ 30 نومبر کو گچک کے علاقے سے وہاں کے رہائشی محمد کریم ولد یار محمد اور ان کی اہلیہ بی بی شاہ پری کو ان کے گھر سے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا ہے، جبکہ ان کے علاوہ سلیم ولد محمد جمعہ، واحد ولد قادر بخش، نزیر ولد امیت اور یار جان ولد دلمراد کو بھی حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔ گچک سے عمر رسیدہ خاتون بی بی مریم زوجہ در محمد کو ان کے دو کمسن نواسوں راشد ولد عواض اور اجمل ولد شاہجان جو کہ طالب علم ہیں، کے ہمراہ گچک ٹوبہ کے مقام پر اس وقت حراست میں لیکر لاپتہ کردیا گیا جب یہ لوگ کسی مقامی لوکل گاڑی میں پنجگور سے گچک آرہے تھے۔ بے گناہ خواتین کو جبرا لاپتہ کرنا بلوچ قومی غیرت اور روایات کی پامالی کے ساتھ ساتھ عالمی اور انسانی اور جنگی قوانین کی اعلانیہ خلاف ورزی ہے مگر اس ظلم پر عالمی اداروں کی خاموشی حیران کن ہے۔
حوران بلوچ نےکہا کہحکمران ایک طرف کہہ رہے ہیں کہ بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے اور دوسری طرف خواتین کو لاپتہ کرکے پہلے سے لگائے گئے زخموں پر نمک چھڑکنے میں مترادف ہے
انہوں نے کہا کہ ہم اس پریس کانفرنس کی توسط سے ملکی اور عالمی تمام متعلقہ اداروں سے گزارش کرتے ہیں کہ بلوچ خواتین اور بچوں کی جبری گمشدگی کے سلسلے کو روکنے کیلئے کردار ادا کریں، اور بلوچستان کے ضلع پنجگور کے علاقے گچک سے لاپتہ ہونے والی خواتین اور بچوں کو جلد از جلد بازیاب کیا جائے۔


