پیرس: اعلیٰ عہدوں پر زیادہ خواتین ملازمین رکھنے پر جرمانہ

پیرس کی مقامی انتظامیہ پر 2018 میں صنفی مساوات سے متعلق ایک قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کر دیا گیا ہے۔ سٹی ہال میں 11 خواتین کے مقابلے صرف پانچ مردوں کی ہی اعلیٰ عہدوں پر تقرریاں ہوئی تھیں۔
فرانس میں پبلک سروس وزارت نے دارالحکومت پیرس کی شہری انتظامیہ کے حکام پر 2018 میں اعلیٰ عہدوں پر بہت زیادہ خواتین کو ملازمت دینے پر جرمانہ عائد کیا ہے۔ حکام کے مطابق ان تقرریوں سے اس قانون کی خلاف ورزی ہوئی جو صنفی مساوات میں توازن برقرار رکھنے کے لیے وضع کیا گیا تھا۔

پیرس کی مقامی انتظامیہ نے 2018 میں اعلیٰ عہدوں پر 11 خواتین کو ملازمت دی تھی جبکہ ایسے عہدوں پر مردوں کی تعداد صرف پانچ تھی۔ خواتین کے مقابلے میں مردوں کی نمائندگی صرف 30 فیصد تھی اسی لیے حکومت نے پیرس کے سٹی ہال پر نوے ہزار یورو کا جرمانہ عائد کیا۔

لیکن پیرس کی میئر اینی ہیدالگو نے منگل کے روز سٹی کونسل کی ایک میٹنگ کے دوران اس فیصلے پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے تقرریوں کو درست ٹھہرایا اور کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا، ”یہ جرمانہ واضح طور پر مضحکہ خیز، غیر منصفانہ، غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک بھی ہے۔”
افغانستان میں امریکا کے زیر سربراہی بین الاقوامی فوجی اتحاد نے سن 2001 میں طالبان حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا، جس کے بعد سے ملک میں خواتین کے حقوق کی صورتحال نے ایک نیا موڑ لیا۔ تاہم موجودہ افغان حکومت میں طالبان کی ممکنہ نمائندگی کا مطلب ہے کہ خواتین ایک مرتبہ پھر تعلیم اور روزگار جیسے بنیادی حقوق سے محروم ہو جائیں گی۔
ان کا مزید کہنا تھا، ”ہاں، ہمیں عزم و حوصلے اور جوش و جذبے کے ساتھ خواتین کے سماجی کردار کو وسعت دینے کی ضرورت ہے کیونکہ فرانس میں اب بھی تقریبا ہر جگہ (اس مسئلے پر) خواتین پیچھے ہیں۔”
فرانس میں صنفی مساوات سے متعلق 2013 کے ایک قانون کے مطابق کسی بھی محکمے میں اعلیٰ عہدوں پر ایک جنس کے 60 فیصد سے زیادہ افراد کی تقرریوں کو ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ گو کہ اس قانون کا اصل مقصد سول سروس کے اعلیٰ عہدوں تک خواتین کی رسائی کو بہتر بنانا ہے۔ فی الحال، پیرس سٹی ہال میں سینئر عہدوں پر کام کرنے والے تمام سرکاری ملازمین میں سے تقریبا ً47 فیصد خواتین ہیں۔
فرانس میں عوامی خدمات کی وزیر ایملی مونتشیلن نے ٹویٹر پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جرمانہ سن 2018 کے لیے عائد کیا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے بعد اس قانون کو ختم کردیا گیا۔
انہوں نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا، ”میں چاہتی ہوں کہ پبلک سروس میں خواتین کو فروغ دینے کے لیے پیرس 2018 کے لیے جرمانہ ادا کرے تاکہ مالی سطح پر مزید پختہ اقدامات کیے جا سکیں۔ میں آپ کو ان امور پر مزید بات چیت کے لیے وزارت میں آنے کی دعوت دیتی ہوں۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں