وفاقی حکومت صوبوں میں گورنرراج لگانا چاہتی ہے،رضا ربانی
کراچی :سابق چیئرمین سینیٹ اور پیپلزپارٹی کے رہنما میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت صوبوں میں گورنرراج لگانا چاہتی ہے۔ آج پھرملک میں ون یونٹ نافذ کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں۔سینیٹ الیکشن آئین کے مطابق وقت پر ہی ہوں گے، ترمیم کر کے طریقہ کار کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا، مشتر کہ مفادات کونسل کے فیصلے بھی کابینہ خود کر رہی ہے۔الیکشن کمیشن آزاد ادارہ ہے آئین کے تحت الیکشن کرانا اس کی ذمہ داری ہے۔سپریم کورٹ سے کہنا چاہتا ہوں کہ یہ پارلیمنٹ میں اکثریت نہ رکھتے ہوئے آئین میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں۔امید ہے کہ سپریم کورٹ اس کھیل کا حصہ نہیں بنے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو سندھ اسمبلی کمیٹی روم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سینیٹر شیری رحمن اور وقار مہدی بھی موجود تھے۔رضا ربانی نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے سینیٹ الیکشن پر غیرآئینی اقدام کرنے کی کوشش کی ہے۔وفاقی کابینہ کا الیکشن کرانے کا اختیار نہیں ہے۔الیکشن کمیشن آزاد ادارہ ہے آئین کے تحت الیکشن کرانا اس کی ذمہ داری ہے۔موجودہ سینٹ کی مدت 11 مارچ رات 12 بجے ختم ہوگی۔سینٹ انتخابات کے لئے آئین کا آرٹیکل 59 بالکل واضح ہے۔جو فیصلے مشترکہ مفادات کو کرنے ہیں وہ کابینہ کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہاتھ دکھا کر ایکشن کرانے کی منطق عجیب ہے۔حکومت کے پاس ترمیم پاس کروانے کی طاقت نہیں ہے۔شو آف ہینڈ کے زریعے قوم پرست جماعتوں کو ایک سیٹ ملنا بھی مشکل ہوجائے گا۔شو آف اینڈ کے ذریعے سینٹ انتخابات کرنے کی بات آئین کی نفی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بنانا ری پبلک نہیں ہے۔آئین کی دھجیاں اڑا کر عوام کی خدمت نہیں کی جارہی ہے۔ہوسکتا ہے کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے۔سپریم کورٹ سے کہنا چاہتا ہوں کہ یہ پارلیمنٹ میں اکثریت نہ رکھتے ہوئے آئین میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں۔امید ہے کہ سپریم کورٹ اس کھیل کا حصہ نہیں بنے گی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ این ایف سی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے۔اٹھارویں ترمیم ختم نہیں کی جاسکتی ہے۔سقوط ڈھاکا کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں رضا ربانی نے کہا کہ میں سمجھتاہوں حمود الرحمان رپورٹ سمیت سب رپورٹس عوام کے سامنے لائی جانی چاہئیں۔پاکستان میں پہلا فساد زبان کی بنیاد پرہواتھا۔انہوں نے کہا کہ حکمران ملک کوتباہی کی طرف لے جارہے ہیں۔اپوزیشن کی بڑی واضح حکمت عملی ہے۔ہمار ی جانب سے مستقبل کا پروگرام دیا گیا ہے۔سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ آج 16دسمبر سانحہ اے پی ایس اور سقوط ڈھاکہ کہ دن ہے۔اے ایس بڑا دردناک واقعہ تھا۔انہوں نے کہا کہ حکمران ملک میں ڈاکو راج مسلط کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سینٹ صوبوں کے حقوق کا ضامن ہے۔قبل از وقت سینیٹ الیکشن کا اعلان پی ڈی ایم کے جلسے کا ردعمل ہے۔یہ ان کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔ملک اس وقت تباہی کی کی جانب گامزن ہے اور وزیر اعظم کتوں کے ساتھ تصاویر شیئر کر رہے ہیں۔انہوں نے پارلیمنٹ کی بے توقیری میں کوئی کسرنہیں چھوڑی۔یہ آئین کوبھی کچھ نہیں سمجھتے ہیں۔شیری رحمن نے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی جو کہتے ہیں وہ سب کہہ رہے ہیں۔حکمران ملک کا شیرازہ بکھیر رہے ہیں ان کو کوئی خیال نہیں ہے۔منتخب حکومت فیصلوں سے قبل سوچتی ہے لیکن یہ تو ملک کو چلانے نہیں جلانے چلے ہیں۔ابھی تو اور بھی مراحل ہیں خطے کے حالات سامنے ہیں۔ہمیں کسی فرد سے نہیں سوچ سے مسئلہ ہے۔ہم ایسی سوچ کے خلاف ہیں جو سلیکٹڈ لاتے ہیں۔عوام کسی بھی چکی میں پسیں یہ بس اپنا اقتدار مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔


