بنیادی حقوق سے محروم رکھ کر احتجاج پر مجبور کیا جا رہا ہے، نزیر بلوچ
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی چیئرمین نزیر بلوچ نے بولان میڈیکل کالج میں بی ایم سی بحالی تحریک کے ایک سالہ تقریب کے موقعے پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک قومی برابری کے بنیاد پر بلوچستان میں سیاسی طرز حکمرانی قائم کرکے یہاں کے عوام کی حق حاکمیت کو تسلیم نہیں کی جاتی بلوچستان میں تعلیمی اداروں کے قیام ان کے تحفظ و عوام کے بنیادی حقوق کے لئے تحریکیں و احتجاج چلتی رہے گی بلوچستان کے عوام کو ہمیشہ بنیادی حقوق تعلیم صحت جدید سہولیات سے محروم رکھ کر احتجاج پر مجبور کی جاتی رہی ہے بولان میڈیکل کالج بحالی تحریک کے دوران طلباء کو تشدد و قید و زندان کا نشانہ بنایا گیا یہاں تک طالبات کو بھی بخشا نہیں گیا بلوچستان کے طلباء و طالبات و تمام طبقات کی روڈوں پر احتجاج کو مقدر بنا دی گئی ہے اساتذہ کرام طلباء و سیاسی کارکن سرآپا احتجاج ہے جب تک احتجاج نہیں کی جاتی مسائل حل نہیں کئے جاتے گوادر میں فینسنگ بنیادی انسانی حقوق و آئین کی خلاف ورزی ہے سیکیورٹی کے نام پر شہری آبادی کو جیل میں تبدیل کی جارہی یے بلوچستان کے عوام کے ساتھ تیسرے درجے کے شہری کا روایہ رکھ کر غدار قرار دے کر قتل عام کی جاتی رہی ہے جب تک قومی برابری کے تحت سیاسی مسئلے کو سیاسی طور پر حل نہیں کی جاسکتی بلوچستان میں لوگ اسی طرح سرآپا احتجاج رہے گی بلوچستان کے تمام مکاتب فکر اساتذہ کرام طلباء تنظیموں سیاسی کارکنوں ملکر بلوچستان کے سیاسی جدوجہد کو مضبوط کرنا ہوگا سیاسی عمل سے ہی چیلنجز کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے بی ایس او اتحاد و یکجہتی کے لئے ہر سطح پر قربانی دینے کے لئے تیار بی ایم سی بحالی تحریک میں شامل تمام تنظیم و ملازمین خراج تحسین کے مستحق ہے امید ہے اسی طرح متحد ہوکر تمام مسائل کے لئے یکجا ہوکر جدوجہد کرینگے۔


