کرپشن کے الزامات، نیب نے مولانا فضل الرحمان سے 26 سوالات پوچھ لیے

اسلام آباد:قومی احتساب بیورو نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو کرپشن کے الزامات پر 26 سوالات پر مشتمل سوالنامہ بھیج دیا، 24 دسمبر تک جوابات جمع کروانے کی ہدایت کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق نیب کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اگر پی ڈی ایم سربراہ نے ان سوالوں کے جوابات جمع نہ کروائے تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، نیب نے اپنے سوالنامے میں مولانا فضل الرحمان سے پوچھا ہے کہ والد کی خریدی گئی وراثت میں ملنے والی جائیداد کی تفصیل بتائیں، آپ اور خاندان کو تحائف کی مد میں ملنے والے اثاثوں کی تفصیل دیں جب کہ اپنے والد کے ذرائع آمدن کے حوالے سے بھی بتائیں، صرف یہی نہیں بلکہ اپنے جوابات کے ساتھ ثبوت بھی جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق نیب نے ابراراحمد، محمد رمضان، یاسر، حاجی شہزادہ، شریف اللہ، ٹکہ خان، گل اصغر، نور اصغر اور شیر بہادر سے مولانا فضل الرحمان یا ان کی پارٹی کے تعلق کے بارے میں بھی پوچھا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان سے ان کے 2 گھر اور ایک پلاٹ جو کہ ڈی آئی خان میں ہیں، ایک بنگلہ ایف 8 اسلام آباد اور دبئی میں ایک فلیٹ، عبدالخیل ڈی آئی خان میں مولانا کے ایک گھر اور 5ایکڑ زرعی زمین سے متعلق بھی پوچھا گیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ مولاناسے چک شہزاد میں خریدی اورفروخت کی گئی 3ارب کی زمین، 47لاکھ روپیمالیت کی کمرشل اراضی، عبدالخیل ڈی آئی خان میں 15لاکھ روپیمالیت کی کمرشل اراضی اور شورکوٹ میں 25لاکھ مالیت کی کمرشل اراضی سے متعلق بھی سوالات کیے گئے ہیں۔اس سے پہلے وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور نے فضل الرحمان کے فرنٹ مین کے نام پر بنی جائیدادوں کی تفصیلات بھی جاری کی تھیں،انہوں نے بتایا کہ فضل الرحمان کے فرنٹ مین گل وزیر اور اس کے بیٹوں کینام پر3777کنال اراضی ہے، موسی خان سابق ڈی ایف اوڈی آئی خان کے نام پر192کنال اراضی ہے، حاجی جلال خان وزیرکینام پر714کنال اراضی ہے۔2005میں مولاناکے فرنٹ مین اشرف علی کو200کنال ارضی حکومت نے الاٹ کی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں