جان محمد گرگناڑی کے اغوا کی مذمت، میر شفیق مینگل پر الزام تراشی قبول نہیں، جھالاوان عوامی پینل

خضدار(نمائندہ انتخاب) جھالاوان عوامی پینل کے رہنماوں میر سعید احمد قلندرانی،میر فدا احمد قلندرانی،میر یونس مردوئی،غازی اسرار احمد ساسولی اور میر ثناء اللہ مینگل نے کہا ہے کہ جھالاوان عوامی پینل وڈھ سے خان محمد گرگناڑی کے مبینہ اغواء کی مذمت کرتی ہے مگر ساتھ میں اس اغواء کو جواز بنا کر ہمارے قائد میر شفیق الرحمن مینگل کے خلاف بی این پی کے قائدنے جو ٹیوٹ کیا ہے الزام تراشی کی ہے یہ عمل بھی قابل مذمت ہے ہم سمجھتے ہیں کہ قبائلی رہنماء خان محمد گرگناڑی کے اغواء میں ملوث عناصر وڈھ کے سردار کے دائیں بائیں بیٹھے ہیں بی این پی کے سرپراہ ہمیشہ ہر معاملے میں سیاسی مخالفین کو دبانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آتی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے خضدار پریس کلب میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جھالاوان عوامی پینل کے رہنماوں کا کہنا تھا کہ قبائلی شخصیت خان محمد گرگناڑی کا مبینہ اغواء ہر سطح پر قابل مذمت عمل ہے ہم اس عمل کی ہر طرح سے مذمت کرتے ہوئے انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس اغواء میں ملوث ملزمان کو فوراً گرفتار کر کے مغوی کو بازیاب کریں مگر دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ بی این پی کی قیادت نے اس واقع کو جواز بنا کر ہمارے محترم قائد میر شفیق الرحمن مینگل کے خلاف ٹیوٹر پر جو الزام تراشی کی ہیں وہ قابل مذمت عمل ہے انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ سرداراخترمینگل اپنے سیاسی مخالفین کو دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آتا ہے جھالاوان عوامی پینل کے قائد کے خلاف نا زیبا الفاظ و الزام تراشی ان کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے جان محمد گرگناڑی کا اغواء ایک قابلِ مزمت عمل ہے ہم اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں گرگناڑی قبائل کے ساتھ ہماری ہمیشہ سے سیاسی و قبائلی قربت رہی ہے ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں ہم انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس گھناونے سازش میں ملوث افراد و اغواء کاروں کو گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔وڈھ کی مخدوش سیاسی صورتحال میں بی این پی مینگل کا کِردار ہمیشہ منفی رہا ہے غالباً 2013 کے عام انتخابات میں سردار اختر مینگل نے سیاسی مخالفین کے حق میں زیادہ ووٹ دیکھ کر بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا اس نےگمھمنڈ میں آکر سیاسی مخالفین کے حق میں ووٹ دینے والوں کا وڈھ بازار آنے پر پابندی لگادی۔ ہماری جماعت نے اپنے ووٹرز کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے یہ کوشش ناکام بنادی. خیر یہ سلسلہ چلتا رہا 2013 سے2018 تک میاں نواز شریف کے ساتھ اندرونی معاہدہ کرتے ہوئے سیاسی مخالفین اور انکے چاہنے والوں پر من گھڑت ایف آئی آر درج کرکے تِھری ایم پی او کے تحت انکے چاہنے والوں کے خلاف سرکاری مشینری کا ناجائز استعمال کرکے میر شفیق الرحمن مینگل کے چاہنے والوں کو وقتی طور پر بند کردیا لیکن انکا سوچ نظریہ اور فکر تبدیل نہ کرسکا۔حال ہی میں خضدار شہری ایکشن کمیٹی میں میر شفیق الرحمن مینگل کے نظریاتی کارکنوں کو دیکھ کر یہ سردار اور اسکا ٹولہ پھر بوکھکلاہٹ کا شکار ہوگئے تھے۔ کفن و قتل تک کے ڈرامے شروع کردیئے بِلآخر وہاں بھی انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا چند دنوں کی خاموشی کے بعد وڈھ میں ہندو تاجر نانک چند کو دن دہاڑے بھتہ نہ دینے کی پاداش میں قتل کردیا حالانکہ ہندو تاجر کے قتل میں ملوث ملزمان کی نشاندگی ہوچکی تھی وہاں بھی اسطرح کے ڈرامے دیکھنے کو ملے بِالآخر ڈپٹی کمشنر خضدار اسسٹنٹ کمشنر وڈھ نے ہندو تاجر کے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کردیا جنکا تعلق بی این پی مینگل سے تھا اور انہوں نے جرم کا اعتراف بھی کرلیاگزشتہ روز قبائلی رہنماء جان محمد گرگناڑی کے ساتھ پیش آنے والے واقع کا زمہ دار ضلعی صدر نے بزنجو قبیلے کے ایک معزز و محترم رہنماء اور اسکے فرزند پر عائد کردیا بعد ازاں انہیں اختر مینگل نے فون کرکے بتایا کہ وڈھ کی سیٹ سے مجھے بزنجو برادران سے خطرہ نہیں بلکہ میر شفیق الرحمن مینگل سے خطرہ ہے ضلعی صدر نے فوراً یو ٹرن لیکر سرداراختر مینگل کے سیاسی مخالفین کے خلاف پروپیکنڈا شروع کردیا.قبائلی رہنماء جان محمد گرگناڑی کے اغواء میں ملوث ملزِمان کی تصویروں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے اُنکی ایک ملاقات شاہی بیٹھک میں اختر مینگل کے ساتھ بھی ہوئی ہے اس اغواء میں سردار اور ایم پی وڈھ کے چہیتے کارندے ملوث ہیں۔ ہم حکومتِ وقت سے مطالبہ کرتے ہیں جان محمد گرگناڑی کو جلد سے جلد بازیاب کرایا جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں