’’سٹوڈنٹس ڈے آف ایکشن ‘‘ پر پی وائے اے کے زیراہتمام بلوچستان میں ریلیاں

پروگریسیو یوتھ الائنس بلوچستان کیجانب سے صوبے کے چار بڑے شہروں کوئٹہ، خاران، ژوب اور لورالائی میں 19 دسمبر کو ”سٹوڈنٹس ڈے آف ایکشن“ کے زیرِ عنوان احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں، جس میں کثیر تعداد میں طلبہ، نوجوانوں اور محنت کشوں نے شرکت کی۔ کوئٹہ میں احتجاجی ریلی میٹرو پولیٹن کے سبزہ زار سے نکلی، جوکہ مختلف شاہراؤں سے ہوتے ہوئے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے میں تبدیل ہوئی۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پروگریسیو یوتھ الائنس کے رہنماء سیما خان نے کہا کہ پروگریسو یوتھ الائنس، جو پاکستان میں طلبہ اور نوجوانوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی ایک انقلابی تنظیم ہے، مفت تعلیم اور طلبہ یونین کی بحالی کے لیے، خواتین کی جنسی ہراسانی، ریاستی جبر و جبری گمشدگیوں اور بے روزگاری کے خلاف 19 دسمبر کو ”سٹوڈنٹس ڈے آف ایکشن“ کے نام سے ملک گیر احتجاج منعقد کرنے جا رہی ہے۔ بروز ہفتہ، طلبہ اور نوجوان پاکستان کے 32 شہروں میں اپنے مطالبات کے لیے ریلیاں نکالیں گے۔ وہ بڑے شہر جہاں یہ احتجاجات منعقد کیے جائیں گے، ان میں لاہور، کراچی، اسلام آباد، ملتان، حیدر آباد، ہنزہ گلگت، پشاور، میرپور خاص، نوابشاہ، لاڑکانہ، نوشہرو فیروز، مِٹھی، دادو، ڈی جی خان، فیصل آباد، گوجرانوالہ، کوئٹہ، ژوب اور دیگر شہر شامل ہیں۔

دیگر مقررین میں بلوچستان یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے پروگریسو یوتھ الائنس کے رہنماء باسط خان کا کہنا تھا کہ، اگرچہ پاکستان میں محنت کش طبقے کی زندگی تعلیم اور صحت کی سہولیات کے بغیر، شدت سے بڑھتی بے روزگاری اور دہشت گردی، تباہ حال انفراسٹرکچر، ریاستی دباؤ، زیادتیوں اور جنسی ہراسانی (کے بڑھتے واقعات) کے ساتھ کبھی بھی آسان نہیں رہی ہے لیکن کرونا وبا کے بعد یہ اور بدحال بن گئی ہے۔

محنت کش طبقے، نوجوانوں اور طلبہ کا معیارِ زندگی بُری طرح متاثر ہوا ہے۔ مہنگائی کی شرح میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بنیادی ضروریاتِ زندگی عوام کی اکثریت کی پہنچ سے باہر ہیں۔ سب سے بدتر یہ کہ بے روزگاری میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ یونیورسٹی میں موجود طلبہ یا جو ڈگریاں حاصل کر چکے ہیں، کے لیے مستقبل میں ملازمت کے کوئی مواقع نہیں ہیں۔ پاکستان کے حکمرانوں نے ان مسائل کو حل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ بلکہ انہوں نے اس بحران کو بھی، اس مقولے کے تحت کہ ”ہر تباہی امیر طبقے کے لیے ایک موقع مہیا کرتی ہے“، زیادہ سے زیادہ پیسہ بنانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

کرونا وبا کی وجہ سے تعلیمی اداروں کے بند ہو جانے کے بعد (طلبہ کو) کوئی بھی سہولت فراہم کیے بغیر اور اُن طلبہ کو ملحوظِ خاطر رکھے بغیر جو ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں انٹرنیٹ موجود نہیں ہے، آن لائن تعلیم کا آغاز کیا گیا۔

لاء کالج سے پروگریسو یوتھ الائنس کے ایک اور سرگرم رکن، علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی سہولیات مہیا کیے بغیر آن لائن تعلیم کا فیصلہ کرنے کا مقصد صرف اور صرف نجی تعلیم کے آقاؤں کی جیبوں میں خطیر رقم بھرنا ہے۔ اسی طرح عوامی تعلیمی اداروں میں بھی طلبہ سے جبراً فیسیں وصول کی گئی ہیں۔ تعلیمی ادارے ایک لاک ڈاؤن کے بعد کھولے گئے اور پھر انہیں حکومت کے اِس بیان کے ساتھ دوبارہ بند کر دیا گیا کہ کرونا کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔ لیکن درحقیقت، یہ فیصلے کرونا کو ذہن میں رکھ کر نہیں کیے گئے تھے۔ نوجوانوں کی طرف سے دباؤ اس کی بڑی وجہ تھی، کیونکہ حکمران طبقے کو طلبہ کی ایک ملک گیر انقلابی عوامی تحریک کے ابھرنے کا خوف تھا۔

زرعی کالج کوئٹہ سے پروگریسو یوتھ الائنس کے ایک اور رہنماء، فیصل خان نے کہا کہ اس بگڑتی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے پروگریسو یوتھ الائنس کی قیادت نے بڑھتی ہوئی بے روزگاری، مہنگی تعلیم اور جبراً فیسوں کی وصولی، جنسی ہراسانی، جنسی ظلم، مہنگائی، غربت، صحت کی سہولیات کی کمی، طلبہ یونین کی بندش، آئی ایم ایف اور باقی تمام سامراجی اداروں کے کردار، ریاستی جبر اور حکمران طبقے کی عوام دشمن سیاست کے خلاف محنت کش طبقے کے نوجوانوں اور طلبہ کو ملک کے چپے چپے میں متحرک کرنے کا فیصلہ کیا۔ پچھلے ڈیڑھ ماہ سے پروگریسو یوتھ الائنس کے ممبران ”سٹوڈنٹس ڈے آف ایکشن“ کی تحریک چلانے کے لیے آس پاس کے محنت کش طبقے، پھیری والوں، دکانداروں، ریلوے کے مزدوروں، سٹیل مِل کے مزدوروں، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لیمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کے مزدوروں، واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے مزدوروں، ڈاکٹروں، طبعی معاونت کے عملے، اساتذہ، بے روزگار نوجوانوں اور لازمی طور پر طلبہ کو ملک گیر تحریک میں منظم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
پروگریسو یوتھ الائنس کے رہنماء امیر ایاز کا کہنا تھا کہ ”سٹوڈنٹس ڈے آف ایکشن“ کے دن وہ اپنے ساتھی امر فیاض کی رہائی کے لیے بھی اپنی آواز اٹھائیں گے، جسے 8 نومبر کو ریاستی اہلکاروں کی جانب سے اغواء کیا گیا تھا۔ تب سے اسے کسی بھی جرم کی پاداش میں عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔ پاکستان میں، خاص طور پر زیرِ تسلط قومیتوں کے سیاسی کارکنوں میں، ’گمشدہ افراد‘ کا مسئلہ بہت عام بات بن چکی ہے۔ ملک کی عدالتیں، پولیس، حکومت، فوجی افسران سمیت دوسرے قانونی ادارے ناکارہ ہو چکے ہیں۔ انٹیلیجنس ایجنسیاں غیر محدود طاقت کے زور پر ملک پر حکمرانی کر رہی ہیں۔ ایک اپوزیشن جماعت کے رہنماء نے اپنی ایک حالیہ تقریر میں کہا کہ پوری قومی اسمبلی سیدھا انٹر سروس انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے کسی کرنل کے احکامات کے تحت چلائی جا رہی ہے۔ یہ بات ملک میں ’جمہوریت‘ اور حکومت کا اصل چہرہ عیاں کرتی ہے۔

تمام سیاسی جماعتیں، چاہے وہ اقتدار میں ہوں یا نام نہاد اپوزیشن میں، جرنیلوں، ججوں، میڈیا مالکان اور حکمران طبقے کے دوسرے افراد سمیت سب کھلی لوٹ کھسوٹ میں ملوث ہیں، جبکہ لاکھوں افراد شدید غربت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ چند دن پہلے لاہور کے قریب ایک غریب آدمی نے شدید غربت اور بھوک کی وجہ سے اپنے پانچ بچوں کو نہر میں پھینک کر انہیں مار ڈالا۔ ملک بھر میں ایسے ہی کیسز اخباروں اور ٹی وی پر معمول بن چکے ہیں، جبکہ اشرافیہ بے حد عیش و عشرت میں جیتے ہیں۔ ملک میں زیادہ تر خبریں میڈیا کے ذریعے، جو کہ ریاست کے کڑے تسلط میں ہے، ختم کر دی جاتی ہیں یا انہیں توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے گمشدہ یا اغواء شدہ افراد کے لیے کیے جانے والے احتجاج اور ریاستی اہلکاروں کے ایسے ہی جرائم کبھی خبروں میں نظر نہیں آتے۔
سرمایہ دارانہ نظام، ایک ایسے ملک میں جہاں ناانصافی اور جرم کے خلاف احتجاج کرنا گمبھیر جرم بن گیا ہو، لاکھوں محنت کشوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں، ”سٹوڈنٹس ڈے آف ایکشن“ محنت کش طبقے کے لیے امید کی ایک کرن کی مانند ہے۔ ملک بھر کے طلبہ اور مزدوروں نے اس کے لیے کی جانے والی کمپیئن کو بے حد سراہا ہے۔ مزدوروں کی بہت سی تنظیموں نے اس کال کی حمایت کی ہے اور اس میں شامل ہونے سے بھی اتفاق کیا ہے۔
ہزاروں مزدور پہلے ہی پورے ملک میں نجکاری، برطرفیوں، تنخواہ میں کٹوتیوں اور دوسرے مسائل کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ گزشتہ چند ماہ میں ہزاروں مزدوروں نے حکومت کے ظالمانہ حملوں کے خلاف سڑکوں پر نکل کر ایسے مظاہرے کیے ہیں جو اُس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئے۔ اب حکومت ریاستی پینشن کا نظام ختم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جو پہلے ہی صرف سرکاری ملازمین کو دی جاتی ہے۔ مزید حملوں کی تیاری کی جا رہی ہے، جن میں بھاری ٹیکس، ملازمتوں میں کمی اور حکومت کی طرف سے ملنے والی صحت اور تعلیم کی خدمات میں کمی شامل ہیں، جو کہ پہلے ہی آبادی کے 10 سے 20 فیصد حصے تک پہنچتی ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں انقلاب ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ اس سے ہٹ کر کوئی بھی چیز محنت کش کے اہم مسائل کو حل نہیں کر سکتی۔
اس کے بعد مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازیاں کیں، اور پھر پُرامن طور پر کامیاب احتجاجی ریلی کا خاتمہ ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں