جے یو آئی ایک بار پھر تقسیم؟

جمعیت علمائے اسلام (ف)میں نواز شریف کے بیانیہ پر گزشتہ چند ہفتوں سے کھل کر بحث جاری تھی مگر بلوچستان کے سینئر رہنما مولانا محمد خان شیرانی کی مولانا فضل الرحمٰن پرتند و تیز تنقیداور الزام تراشی کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ بحیثیت ایک واحد ملک گیرسیاسی جماعت اپنا وجود برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا۔اپنے قائد کو 40سال بعد جھوٹا اور خائن کہنے کے بعد یہ دعویٰ کرنا کہ ہم اصل پارٹی ہیں،ہم الگ گروپ نہیں بنائیں گے، ہم اپنے دفاتر ضلعی بنیادوں پر قائم کر رہے ہیں۔قائد ہم سے جونیئر ہیں۔ انہیں الگ ہونا ہے۔سب سے پہلے نواز شریف کے بیانیے پرتنقید اوراس سے علیٰحدگی کا اعلان جے یو آئی کے سینئر رہنما اور سیکرٹری اطلاعات حافظ حسین احمد نے کیا،انہیں جمعیت کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے عہدے سے ہٹا دیا اوروہ خاموش ہوکر گوشہ نشین ہوگئے،بظاہر یہی لگا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی پارٹی پر گرفت مضبوط ہے اور اختلاف کرنیوالے چپ ہوکر بے اثر ہو جائیں گے۔ لیکن ان کی مخصوص اور نپی تلی تنقید پارٹی میں سینہ بہ سینہ گردش کرتی رہی۔اور اگلے روزبلوچستان سے ایک زوردار مخالفانہ آواز بلند ہوئی۔مولانا شیرانی کی حمایت میں مولانا شجاع بھی بول پڑے۔24دسمبر کو مولانا فضل الرحمٰن نے اس صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس طلب کر لیاہے۔ان کی کوشش ہوگی کہ پارٹی ٹوٹنے سے بچ جائے۔الزامات کی سنگینی اور لہجے کی کاٹ کے پیش نظر طوفان تھمنے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔ اس سے پہلے انہیں پارٹی کے اندر سے کسی نے جھوٹااور خائن نہیں کہا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن اپنے والد مفتی محمود کی سادہ اور درویشانہ زندگی کو عرصہ ہوا خیر باد کہہ چکے تھے۔ان کا رہن سہن اپنے مرحوم والد کے برعکس رئیسانہ ٹھاٹ باٹ کے قریب پہنچ چکا ہے۔وہ اس گدی کی تقدیس برقرار نہیں رکھ سکے جو انہیں ورثے میں ملی تھی۔یہ بھی ممکن ہے کہ حالیہ ٹوٹ پھوٹ موروثی سیاست کا نتیجہ ہو، ہمارے مشرقی پڑوسی ملک بھارت میں کانگریس جیسی توانا پارٹی موروثیت کاشکار ہوکر بھارتی سیاست سے تقریباً معدوم ہو چکی ہے۔نیب کی جانب سے انہیں سوالنامہ بھیج دیا گیا ہے، حالات کے تیو ربتا رہے ہیں کہ انہیں اس بار جواب دینا ہوگا۔پی ڈی ایم کی سربراہی پر بھی ایک سے زائد سوالیہ نشان آ گئے ہیں، جو شخص اپنی پارٹی اور دیرینہ ساتھیوں کااعتماد کھو بیٹھے اسے دوسری پارٹیاں زیادہ دیر اپنا مشترکہ سربراہ شاید نہ تسلیم کریں۔ گزشتہ دھرنے میں مولانا کی عدم موجودگی کو اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا: ”ہم تو دیئے گئے وقت پر اپنی روایت کے مطابق پہنچ گئے ہیں مگر میزبان موجود نہیں،اس لئے واپس جارہے ہیں“۔ مولانا شیرانی ان کی پارٹی کے اہم ترین رہنماؤں میں سے ہیں، ان کی علیحدگی سے جے یو آئی کو کتنا نقصان پہنچ سکتا ہے؟ پارٹی سربراہ کی حیثیت سے وہ باخبر ہوں گے۔ ناراضگی کے سبب اور ٹائمنگ کو نظر انداز نہ کیاجائے۔ ابھی ان کی حکومت گراؤ تحریک دوسرے مرحلے میں داخل نہیں ہوئی،پہلے مرحلے کے نتائج مولانا کی توقعات کے یکسر الٹ نکلے ہیں۔نوازشریف کابیانیہ پی ڈی ایم کے مزاج اور نفسیات سے قطعی مختلف تھا۔جسے جے یو آئی جیسی جماعت بھی برداشت نہ کر سکی،خود ایک بڑے بحران کا شکار ہوگئی۔مولانا اور ان کے ہم خیال مانیں یا نہ مانیں 90کی دہائی مدت ہوئی گزر چکی۔ آج وہ پرانے نعرے پرکشش نہیں رہے جو 90کی دہائی میں بوجوہ کارآمد ثابت ہوئے تھے۔ امریکی ڈرون پاکستانی فضاؤں میں تا دیر اپنے نشانے تلاش کرتے اورعوام کو بھی خوف زدہ کیا کرتے تھے۔(مسلح) طالبان مارگلہ کی پہاڑیوں پر چہل قدمی کرتے دیکھے جاتے تھے۔اسلام آباد والوں کو بھی نظر آتے تھے۔ان کی تعداد نہ صرف بتدریج کم ہوتی رہی بلکہ وہ افغانستان تک محدودہوکررہ گئے ہیں۔یہ نہ بھولا جائے کہ پنجاب میں پنڈال سجا کراپنی پسند کی تقریر تو کی جاسکتی ہے لیکن یہ سمجھنا دانشمندی سے بعید ہے کہ سامعین کا رد عمل بھی حسب منشاء ہوگا۔تخمینے کی یہی غلطی اپنا رنگ دکھا رہی ہے۔90کی دہائی میں نون لیگ کی اعلیٰ قیادت بھی زندہ ہے،اوراس کے بارے میں بھی ایسی ہی ٹوٹ پھوٹ کی خبریں گشت کر رہی ہیں جیسی ٹوٹ پھوٹ جے یو آئی میں سامنے آئی ہے۔پی ڈی ایم نے استعفے پارٹی قیادت کے پاس جمع کرانے کی ہدایت کی ہے مگر نون لیگ کے ناراض رکن پنجاب اسمبلی نے اسپیکر کے دفتر میں مشروط استعفیٰ جمع کرادیا ہے۔پی پی پی کے سینئر رہنما سابق قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے احتساب عدالت(سکھر) کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ۔۔۔ استعفے مسائل کا حل نہیں، موجودہ حالات میں مذاکرات اور پارلیمنٹ کا راستہ اختیارکیا جائے۔۔۔ جبکہ انہوں نے اپنا استعفیٰ پارٹی قیادت کو بھجوادیا ہے۔ گویا پی پی پی کے سینئر رہنما کی رائے پارٹی چیئرمین سے ایک حد تک مختلف ہے، مناسبوقتپر یہ رائے اثر دکھا سکتی ہے۔ 11 جماعتی اتحاد ابھی کوئی حتمی لائحہ عمل وضع نہیں کرسکا۔ شاید27دسمبر کو لاڑکانہ جلسے کے مقررین اس حوالے سے کچھ کہیں۔ مسلم لیگ نون کی سینئر نائب صدر مریم نواز کی شرکت بھی متوقع ہے۔تب تک دیگر گوشوں سے بھی اطلاعات سامنے آچکی ہوں گی۔اپوزیشن کی مشکلات میں غیر متوقع اضافہ نظر آرہا ہے۔ عام حالات میں مخالفانہ رائے کو اتنی اہمیت حاصل نہیں ہوتی مگر تحریک آدھے راستے میں ہو اور قائدین آپس میں لڑنے لگیں تو عام آدمی کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تحریک کے حامیوں میں سرگوشیاں شروع ہوجاتی ہیں۔دلوں میں وسوسے پیدا ہونے لگتے ہیں۔ مخالفین کی باچھیں کھل جاتی ہیں۔ ان کی آنکھوں میں چمک دیدنی ہوتی ہے۔جمعیت علمائے اسلام کی قیادت کا ایسے نازک وقت پر ایک دوسرے کے گریبان پر ہاتھ ڈالنا تکلیف دہ منظر ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ لیکن جب اتنی بڑی تحریک کا اعلان مناسب سوچ بچار اور مشاورت کے بغیر محض جذبات کے بل پر عجلت میں کیا جائے تو چند قدم چلنے کے بعد یہی کچھ ہوا کرتاہے۔مولانا فضل الرحمٰن کی سیاسی بصیرت کو ایک مشکل امتحان کا سامنا ہے۔پارٹی کے سینئر رہنماؤں کو راضی کرنا ہے۔وقت کی نزاکت اورکمی بھی ایک فیکٹر کے طور پر اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں