ٹیسٹ کیلئے رٹے لگائے گئے، ایسے ڈاکٹرز نہیں چاہیں،صدرمیڈیکل کمیشن

اسلام آباد:پاکستان میڈیکل کمیشن نے کہا ہے کہ ملک بھر کے میڈیکل کالجز میں 19120 مجموعی سیٹس ہیں اور ہر سیٹ پر 3 بچے مقابلہ کر رہے ہیں،کئی بچوں کی جانب سے ٹیسٹ کیلئے رٹے لگائے گئے، ایسے ڈاکٹرز نہیں چاہیں،ہر بچے کا میڈیکل کالج جانے کا حق نہیں یہ میرٹ کا معاملہ ہے،ہم جانتے ہیں کہ احتجاج کرنے والوں کے پیچھے کون لوگ ہیں،لوگوں کی دکانیں بند ہوگئیں ہیں،اکیڈیمیز کی جانب سے سوالات کا بینک بنایا جاتا تھا اور بچوں کو رٹے کے ساتھ مارکس دلوائے جاتے تھے۔پاکستان میڈیکل کمیشن کے صدر ڈاکٹر ارشد تقی اور نائب صدر علی رضا نے ان خیالات کا اظہاربدھ کو مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ اس دوران پاکستان میڈیکل کمیشن کے صدر ڈاکٹر ارشد تقی نے کہا کہ سکورنگ میں کسی انسانی عنصر کی دخل اندازی نہیں ہوتی،بچوں کی جانب سے کہا گیا کہ ہمارے نمبر زیادہ آنے چاہیں تھے،ہم نے بچوں کو ری چیکنگ کا آپشن دیا،معاہدے کے تحت 15 رولنمبرز کو دوبارہ سے چیک کیا گیا،کچھ بچوں نے بیچ نمبر کے لیے غلط سرکلز بھرے،غلطی کا احساس ہونے پر دوسرا سرکل بھرا لیکن مشین نے غلطی کی نشاندہی کر دی،پیپر میں جو لکھا گیا سکورنگ اْسی بنیاد پر کی گئی،جب ہم نے امتحان ڈیزان کیا تو سوالات کے فارمیٹ کے حوالے سے ویب سائٹ پر تفصیلات بتائی گئیں،امتحان کی ریلائبلٹی کی شرح بھی 0.96 رہی جو بہت بہتر ہے،58 سوالات ایسے تھے جن کو تقریبا سب سٹوڈینس نے ٹھیک کیا،105 سوالات ایسے تھے جن کو 52 فیصد لوگوں نے ٹھیک کیا،27 سوالات مشکل تھے تاکہ فیصلہ ہوسکے کونسے بچے کس کالج میں جاسکیں گے،158 سوالات ایسے تھے جن میں اچھے سٹوڈینٹس نے اچھے اور کمزور نے کم نمبر لئے۔تفصیلی جائزے اور طلباء فیڈ بیک کے مطابق 14 سوالات نکال کر 186 میں سے نمبرز دئیے گئے۔نائب صدر پاکستان میڈیکل کمیشن علی رضا نے کہا کہ جن جن نے دوبارہ گنتی کے لیے اپلائی کیا وہ معاملہ مرحلہ وار جاری ہے،بلوچستان، کے پی داخلوں کے لیے اشتہارات دے چکے،فیڈرل اور پنجاب بھی بہت جلد داخلوں کا آغاز کرے گا،ہمیں 60 فیصد پاسنگ مارکس کو 50 فیصد کرنے کے لیے پیغامات آرہے ہیں،ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے لیکن اس بار ایسا نہیں ہوگا،پاسنگ مارکس کم کرنے سے بہت سارے بچے داخلوں کے لیے اہل ہوجاتے ہیں،بہت سارے بچے جو پرائیویٹ کالجز نہیں جاسکتے لیکن اس نظام کے تحت اْن کو بھی وہاں داخلہ مل سکتا ہے،سندھ میں رزلٹ کے حوالے سے شکایات آرہی ہیں،ملک میں 19120 مجموعی سیٹس ہیں اور ہر سیٹ پر 3 بچے مقابلہ کر رہے ہیں،700 سے زائد بچوں سے ہم نے زاتی طور پر بات کی ہے،بہت سے بچوں نے کہا کہ سوال ٹیکسٹ بْک والا نہیں تھا،کئی بچوں کی جانب سے رٹے لگائے گئے، ایسے ڈاکٹرز نہیں چاہیں،ہر بچے کا میڈیکل کالج جانے کا حق نہیں یہ میرٹ کا معاملہ ہے،ہم جانتے ہیں کہ احتجاج کرنے والوں کے پیچھے کون لوگ ہیں،لوگوں کی دکانیں بند ہوگئیں ہیں،اکیڈیمیز کی جانب سے سوالات کا بینک بنایا جاتا تھا اور بچوں کو رٹے کے ساتھ مارکس دلوائے جاتے تھے،جو 67 ہزار بچے پاس ہوئے ہم ان سے مطمئن ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں