تھانہ رشوت سے چلے تو۔۔۔؟
کراچی پولیس چیف ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن نے ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کے سرمایہ کاروں سے خطاب کرتے ہوئے ایک تلخ حقیقت بیان کرتے ہوئے سوال کیا جب تھانے رشوت کے پیسوں چلائے جائیں تو ایمانداری کہا ں اور کیسے ملے گی؟ انہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے پہلی بار تھانوں کا بجٹ دینے پر شکریہ ادا کیا۔ طویل ملازمت کے دوران معاشرے کی مسلسل تنقید کا انہوں نے دو سطروں میں انتہائی فصیح وبلیغ جواب دیاہے جس پر ہمارے پارلیمنٹ کو پوری دیانتداری کے ساتھ غور کرنا چاہیئے۔صرف ڈھیلی ڈھالی اور بیدلی سے کی جانے والی قانون سازی ہی تمام جرائم کا سبب نہیں، تھانوں کے روزمرہ اخراجات کی فراہمی بھی اہم اور لازمی سمجھی جانی چاہیئے تھی۔ماضی قریب تک ایف آئی آر کی نقل کی کاربن کاپی مدعی،مدعا علیہ،اورعدالتوں کو فراہم کرنا ہوتی تھی، ایک سے زائد کاربن استعمال کئے جاتے تھے لیکن محرر کاغذ /کاربنی اور بال پین وغیرہ سمیت تمام اخراجات فریقین کی جیب سے پورے کرتاتھا۔اسی طرح گشت پر جانے والی گاڑیوں کا پیٹرو ل ضرورت سے کہیں کم مقدار میں فراہم کیا جاتاہے۔حتیٰ کہ لاک اپ میں بند قیدیوں کا ناشتہ اور کھانا فراہم کرنا بھی عملے کے لئے ایک مستقل درد سر بنا ہوتا ہے۔جب تک سرکاری فرائض کی انجام دہی کے لئے پولیس اہلکاروں اور افسران کو معقول بجٹ نہ ملے تو ہر چیز ان شہریوں سے وصول کرنا ایک مجبوری بن جاتا ہے۔یہی وجہ ہے شہری دعائیں مانگتے ہیں کہ اللہ تھانے سے بچائے۔ رشوت کی لت جب کسی کو لگ جائے تو یہ پھلتی پھولتی چلی جاتی ہے۔ تھانے بکنے کی اطلاعات سے بھی لوگ باخبر ہیں۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ کون سا تھانہ کسی شہر کا مہنگاتھانہ ہوتا ہے۔کراچی والوں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ بعض پولیس افسران نے اسمارٹ اغوا کا ایک نیٹ ورک بھی طویل عرصے تک چلایا ہے۔بعض مجرمانہ پس منظر کے حامل افراد بھی بھرتی ہوتے رہے ہیں۔ملک بھرکی پولیس ہردور میں اسکینڈلز کی زد میں رہی ہے۔ یہی حال دیگر سرکاری اداروں کا ہے۔ہر شہری جہاں جاتا ہے دکھ سے بڑبڑاتا ہوا دفتر سے لوٹتا ہے۔کھلے عام کہاجاتا ہے:”فائل کو پہیے نہیں لگیں گے توچلے گی کیسے؟“۔چائے پانی تو سرکاری ملازمین کا تکیہ کلام ہے۔یہی خرابی بڑھ کر پورے ملک اور معاشرے کے لئے عذاب بن جاتی ہے۔جیسا کہ آج کل دیکھا جا رہاہے۔سابق صدر پاکستان، وزرائے اعظم، وزرائے اعلیٰ، وزراء اور سیاسی جماعتوں کے سربراہان نیب کے چکرکاٹ رہے ہیں۔کچھ بیرون ملک مقیم ہیں،کہتے ہیں ملک کی عدالتوں پر اعتماد نہیں۔جو پیشیاں بھگت رہے ہیں،بیشتر پر بینامی جائید اد اور ذرائع آمدنی سے زائد اثاثہ جات کا مالک ہونے کا الزام ہے۔ایک سابق وزیر اعلیٰ کا یہ تاریخی جملہ کئی سال گزرنے کے بعد بھی پوری لطافت کے ساتھ زبان زد عام ہے کہ ”ڈگری ڈگری ہوتی ہے، جعلی ہو یا اصلی ہو!“،بعض وزرائے اعلیٰ کے خلاف تحقیقات شروع کئے جانے کی اطلاعات میڈیا پر گشت کررہی ہیں۔ کچھ نام دیکھ کر ان کے بہی خواہوں کی زبان سے نکلتا ہے،”کاش یہ نام نہ ہوتے!“، لیکن حمام میں جانے کے بعد بے لباسی عیب نہیں سمجھی جاتی۔حمام کی ثقافت مجلسی ثقافت سے مختلف ہواکرتی ہے۔ابھی سچ بولنے، سچ سننے اور سچ برداشت کرنے کی روایت پختہ نہیں ہوئی،ابتداء ہے۔جو دعویٰ کرتے تھے: ہم نے ایک دھیلے کی چوری نہیں کی،ان کے بارے میں نیب کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اربوں کی چوری کی ہے۔عدالتیں جب بینسامی جائیداد کے ثبوت طلب کرتی ہے تو جواب میں بیماریوں کی طویل فہرست سناتے ہیں۔ اب تو برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے ایک پاکستانی سابق وزیر اعظم کی بیدخلی کے لئے اپنے وزیر اعظم کو خط لکھنے شروع کر دیئے ہیں کہ سال پہلے علاج کے لئے مشروط عدالتی اجازت سے لندن پہنچے تھے،اب غیر قانونی طور پر مقیم ہیں، 40سے زائدتارکین وطن کے ساتھ بھیجا گیا طیارہ بھی ان کے بغیر پاکستان میں لینڈ نہیں کر سکا، واپس آگیاتھا۔ گویا پاکستان میں کئی عشروں تک جاری رہنے والی بے لگام کرپشن کے بھبکے لندن کے پارلیمنٹیرینز کے لئے بھی ناقابل برداشت ہونے لگے ہیں۔پاکستان کے ایڈیشنل آئی جی بھی اس کی سڑاند کا اعتراف عام پبلک کے روبرو کرنے پرمجبور ہیں۔جب ہرخاص و عام ملکی اور عالمی سطح پر کرپشن کے ملزمان سے علیحدگی کا اظہار کرنے لگے تو جان لینا چاہیئے کہ پاکستان میں کرپشن کا دور زوال پذیر ہے۔کرپشن کو بچانے والوں پر خدا کی زمین تنگ ہونے لگی ہے۔اپنے انجام کے قریب پہنچ چکے ہیں۔پاکستان کے غریب عوام نے کرپٹ ٹولے کے کالے کرتوتوں کی وجہ سے بڑے دکھ جھیلے ہیں۔اربوں ڈالر ان قرضوں کا سود ہر سال ادا کرنا پڑ رہا ہے جو غیر ملکوں میں جائیدادیں خریدنے پر صرف ہوئے۔ورنہ ملزمان کی طرف سے ملکی یا غیر ملکی میڈیا کے سامنے ملکیت جائز ہونے کے شواہد پیش کئے جاتے۔یہ نہ کہا جاتا نیب کی کیا مجال ہے آنکھ اٹھا کر دیکھ سکے! ایف اے ٹی ایف کا دباؤ پاکستانی عوام کے لئے مددگار ثابت ہوا،اسی دباؤ کے نتیجے میں کرپشن کی روک تھام کی قانون سازی ممکن ہوئی۔ماننا ہوگاکہ ہنڈی کا خاتمہ ہوا ہے،رواں مالی سال میں بیرون ملک سے بھیجی جانے والی رقوم میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ مافیاز کے لئے ماحول ماضی جیساسازگار نہیں رہا۔نہ کرپشن نے راتوں رات آسمان کی بلندیوں کو چھوأ اور نہ ہی اسے راتوں رات ختم کیاجانا ممکن ہے۔پانامہ لیکس میں کئے گئے انکشافات کوابھی 6سال ہوئے ہیں۔ایف اے ٹی ایف کا دباؤ ہمارے حکمرانوں پر چند سال اسی طرح برقرار رہا تو مافیاز کے لئے جینا مشکل ہوجا ئے گا۔ایڈیشنل آئی جی پولیس کو اپنے محکمے میں جاری بنیادی خرابی کا اعتراف کرنے میں چار دہائیاں لگیں۔اگر اس خرابی کا مکمل خاتمہ میں 4 سال میں ہوجائے تو عوام اسے تاخیر نہیں کہیں گے۔ عوام جانتے ہیں کہ پرانے کینسرکا علاج دنوں یا ہفتوں میں نہیں کیا جاسکتا،کرپشن بھی کینسر جیسی ہی ایک موذی سماجی بیماری ہے، نجات آسانی سے نہیں ملتی۔ ایک سے زائد بار کیمو تھراپی کی ضرورت ہوتی ہے۔شکر ہے کہ بین الاقوامی تقاضوں کے باعث پاکستانیوں کواس کا علم ہوا اور پھر جیسے تیسے علاج کی بسم اللہ ہو گئی۔


