پی ڈی ایم تحلیل کرنے کی پیشکش

پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سربراہ و پی ڈی ایم کے مرکزی نائب صدر محمود خان اچکزئی نے سبی میں پی ڈی ایم کے زیراہتمام منعقدہ جلسے سے خطاب کے دوران کہا کہ سپہ سالار پریس کانفرنس کے ذریعے یہ یقین دلائیں کہ ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی ہوگی،پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوگی، داخلی و خارجی پالیسیاں بنانے سمیت عوام کی قسمت کا فیصلہ صرف پارلیمنٹ کرے گی،کوئی یہ نہیں کہے گا کہ فلاں کو وزیر بنادو، تو۔۔۔۔آج ہی پی ڈی ایم کو تحلیل کر دیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اب تجربوں اور سلیکٹڈ حکمرانوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ملک معاشی اور اقتصادی لحاظ سے دولخت ہو چکا ہے، عوام بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگاری کے ہاتھوں چیخ رہے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان اپنی غلطیوں کا خود اعتراف کر چکے ہیں۔انہوں نے ناانصافی کی مثال پیش کرتے ہوئے کہابلوچستان کو قدرت نے گیس عطا کی مگر بلوچستان میں مائیں، بیٹیاں اس سے محروم اور مصنوعی ایندھن استعمال کررہی ہیں۔محمود خان اچکزئی نے ملک کو درپیش پیچیدہ سیاسی مسئلے کا صاف ستھرا حل پیش کردیا ہے۔توقع کی جانی چاہیئے کہ فریق ثانی اس پیشکش سے استفادہ کریں گے اور ملک اور عوام کو اس ذہنی اذیت سے نجات مل جائے گی جس میں طویل عرصے سے مبتلا ہے۔نہ کسی کو رات کے اندھیرے میں برقع پہن کرگیٹ نمبر چار سے گزر کر ملاقات کی حاجت رہے گی اور نہ ہی گیٹ نمبرچار کے دوسری جانب بیٹھنے والوں کو”سلیکٹر ز“ ہونے کا طعنہ سننے کی مجبوری لاحق ہو گی۔اب وقت آگیا ہے کہ یہ افسوسناک سلسلہ ختم ہو۔یہ صورت حال سیاست دانوں اور اداروں، دونوں کے لئے نقصان دہ ہے۔ اس کا خمیازہ مہنگائی، بیروزگاری،بیماری،جہالت اورغربت کی صورت میں عوام کو بھگتناپڑتا ہے۔ امن و امان کی بدحالی انہی مسائل کی ضمنی پیداوار ہے۔
73سال تاریخ کا خاطر خواہ حصہ پون صدی کے لگ بھگ مدت کاقصہ ہے۔پاکستان میں دو نسلیں عمر طبعی پوری کر چکی ہیں،انہوں نے اچھا یا برا جو بھی کیا اب تاریخ کا حصہ ہے۔تیسری نسل اقتدار سنبھالنے کو بیقرار ہے۔ماضی میں سب برا نہیں ہوا، بہت کچھ اچھا بھی ہوتا رہا ہے،ورنہ پاکستان اپناوجود برقرار نہ رکھ سکتا۔اس پر بحث تو کی جا سکتی ہے کہ جتنا برا ہوا وہ نہ ہوتا تو تیسری نسل کو گلہ نہ ہوتا۔ لیکن سب اچھا کسی ملک میں نہیں ہو ا۔ ہمارے چار ہمسایوں میں سے تین داخلی اور خارجی مسائل کا شکار ہیں۔صرف ایک ہمسایہ ترقی یافتہ اور خوشحالی کی جانب رواں دواں ہے۔پاکستان اپنے داخلی معاشی و سیاسی مسائل میں الجھ کر دو لخت ہوا، اس واقعہ کو گزرے نصف صدی بیت گئی ہے۔زندہ قومیں سانحات پر نوحہ خوانی نہیں کیا کرتیں۔اپنی صلاحیتوں اور اپنے وسائل کو بروئے کار لاکرترقی اور خوشحالی کی نئی منزلیں تلاش کرتی ہیں۔پاکستان جن وسائل کا مالک ہے اگرانہیں عوام کی امانت سمجھ کر درست انداز میں استعمال کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ عوام کی تقدیر بدل جائے۔سب جانتے ہیں خرابی حکمرانی /گورننس میں ہے،وسائل کی قلت اس کا سبب نہیں۔5سو میل سمندری حدود، ساڑھے سات سو کلومیٹر طویل ساحل، سونے، چاندی اور دیگر قیمتی معدنی وسائل کے ذخائر،وسیع و عریض قابل کاشت زمین، ضرورت سے زیادہ پانی جسے ماضی کے حکمرانوں نے سیلاب کی شکل میں سمندر برد کر دیا۔اندھادھند جنگلات کاٹ کر اور کوئلے سے چلنے والے پلانٹ لگا کرماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کیا۔ڈیم تعمیر کرنے سے مسلسل انکار پرلے درجے کی نالائقی اور احمقانہ فیصلہ تھا۔چین اور بھارت نے آبی وسائل کی قدر کی،ترقی کی دوڑ میں پاکستان سے آگے نکل گئے۔سستی بجلی نے انہیں صنعتی اورزرعی میدان میں مدد کی،اور کم پیداواری لاگت کے بل پر دونوں ملکوں نے عالمی منڈی میں اپنی مصنوعات فروخت کرکے اپنی معیشت کو مستحکم بنیاد فراہم کی۔جبکہ پاکستان کی معیشت زوال پذیررہی۔حتیٰ کہ رواں مالیاتی خسارہ 20ارب ڈالر سے بڑھ گیا۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے سپہ سالار کو اس سیاسی بحران سے نکلنے کا بڑا سادہ اورآسان فارمولہ پیش کردیا ہے۔اگر خلوص دل سے یہ پیشکش قبول کرلی گئی توملک ہیجانی کیفیت سے باہر نکل جائے گا، کسی ٹریک ٹو ڈائیلاگ کی ضرورت نہیں رہے گی۔زبانی گولہ باری بند ہوجائے گی۔حکومت اور اپوزیشن کی جان اس فضول مشق سے چھوٹ سکتی ہے۔یہ وقت ملک اور عوام کو دیگر مسائل سے چھٹکارہ دلانے کے لئے درکار منصوبہ بندی کے کام آسکتا ہے۔نئی نئی گالیاں ایجاد کرنے کی ضرورت ختم ہوجائیگی۔ایک دوسرے کو نیست و نابود کرنے کا جنون دونوں کیمپوں کے سر سے اتر جائے گا۔اسٹیبلشمنٹ کے لئے اس تجویز کو مان لینے میں کوئی دشواری درپیش نہیں، اس تجویز پر 80،85فیصد عمل پہلے ہی کیاجاچکا ہے۔7جولائی کو نون لیگ کے ترجمان محمد زبیر عمر کو جب آرمی چیف نے کہا تھاکہ آپ سیاسی معاملات پارلیمنٹ اور قانونی مسائل عدالتوں میں حل کریں توجو بات محمود خان اچکزئی میڈیاکے روبرو آرمی چیف سے الفاظ کی دوسری ترتیب میں کہلوانا چاہتے ہیں، کہہ دی گئی تھی۔البتہ محمود خان اچکزئی کا وضع کردہ جملہ معانی اور مفہوم کے اعتبار سے زیادہ فصیح وبلیغ ہے۔عام آدمی بھی کسی دقت کے بغیر سمجھ جائے گا:
1: ”آئندہ ملک میں آئین اور قانون کی بالا دستی ہوگی،
2: پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوگی،
3: داخلی و خارجی پالیسیاں بنانے سمیت عوام کی قسمت کا فیصلہ صرف پارلیمنٹ کرے گی،
4: کوئی یہ نہیں کہے گا: فلاں کو وزیر بنادو!“
آرمی چیف کی جانب سے مطلوبہ پریس کانفرنس میں مذکورہ بالا اعلان کے بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں درج بالا اعلان کو (اگر کردیا جائے) باضابطہ ویلکم کیا جانا چاہیئے اور عوام سے ہاؤس کے فلور پر با آواز بلند اور ہاتھ اٹھا کر یہ وعدہ کرے:
”ہم خدا کو حاضر و ناظر جان کر، جس کے قبضہئ قدرت میں ہماری جان ہے، اور جس کے پاس ہم نے لوٹ کر جانا ہے،عوام سے وعدہ کرتے ہیں کہ آئندہ قانون سازی ذاتی، خاندانی، گروہی اور جماعتی مفادات اور تعصبات سے بالا تر ہو کر صرف اور صرف ریاست کے مفاد میں کریں گے۔“اَللہ ہماراحامی و ناصر ہو!

اپنا تبصرہ بھیجیں