اب پرانی سیاست نہیں چلے گی

پی ٹی آئی کو حکومت سنبھالے ڈھائی سال ہونے کو ہیں۔پہلے دن اپوزیشن نے اسے ”سلیکٹڈ“ کہہ کر جو طنز بھری گالی دی،اگلے لمحے نو منتخب وزیر اعظم کی حیثیت سے عمران خان نے اپوزیشن کواس کا بیساختہ جواب ”ڈاکوؤ! چوروسن لو، تم کچھ بھی کر لو، تمہیں N.R.O. نہیں دوں گا“۔ان کی حکومت گرانے کے لئے اپوزیشن سے قانون سازی میں عدم تعاون، جلسوں جلوسوں اور لانگ مارچ سمیت جو کچھ بن پڑا اس نے کیا۔ 16اکتوبر سے ملک گیر تحریک چلائی گئی پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے،اسلام آباد تک مزیدایک لانگ مارچ کی دھمکی دی مگر حکومت اپنے روز اول کے بیانیے پر سختی سے ڈٹی ہوئی ہے، ذرا بھی ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں۔13دسمبر کے لاہور والے جلسے کے بعد سے اس کا رویہ مزید جارحانہ ہوگیا ہے۔اپوزیشن کے خلاف ایک وائٹ پیپر شائع کرنے کا عندیہ بھی دے دیاہے۔ اپنے ترجمانوں کو ہدایت دے دی ہے کہ اپوزیشن کی تنقید کا جواب اینٹ کے بدلے پتھر سے دیاجائے۔مسلم لیگ نون کے اہم رہنما سابق وزیر دفاع خواجہ آصف کو نیب نے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیاگیا ہے۔پی ڈی ایم کے سربراہ کو نیب نے سوالنامہ بھیجا ہے جو تا حال انہوں نے وصول نہیں کیا، نیب کی جانب سے کی جانے والی کسی بھی کارروائی کا یہ پہلا مرحلہ ہوتا ہے۔دیکھیں آنے والے دنوں میں مولانا فضل الرحمٰن کیا حکمت عملی اپنائیں گے؟ حکومت نے پریس کانفرنسز میں اپنے تین تین وزراء کو ایک ساتھ شرکت کی ہدایت کرکے بظاہر کہہ دیا ہے کہ ’جوتم کرو گے، وہ ہم کریں گے‘۔ اس سے مبصرین یہی سمجھتے ہیں کہ اگر پی ڈی ایم نے سابقہ جارحانہ حکمت عملی ترک نہ کی توآنے والے دنوں میں گرما گرمی میں اضافہ کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔گینداب اپوزیشن کے کورٹ میں ہے۔
البتہ پی ڈی ایم کے ابتدائی بیانیے کو پی پی پی کے سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے کے اعلان سے دھچکا پہنچا ہے۔پی پی پی کے مذکورہ اعلان کے بعدسے نون لیگ بھی استعفے اسپیکر آفس میں جمع کرانے سے گریزاں دکھائی دیتی ہے۔لیکن ابھی تک صاف کھلتے بھی نہیں،سامنے آتے بھی نہیں والی پالیسی جاری ہے۔ اسپیکر آفس میں جمع کرائے گئے استعفوں کے حوالے سے دونوں اراکین کو قانونی تقاضہ پوراکرنے کے لئے اسپیکر سے ملاقات کاخط بھجا گیا تھا، جس کی تعمیل ادھوری کی گئی ہے۔اراکین نے آفس جا کر یہ تو کہہ دیا ہے کہ یہ استعفے ان کے نہیں ہیں، مگر اسپیکر سے ملنے والی شرط پر عمل ہونا باقی ہے۔اسپیکر نے مذکورہ استعفوں کے فارنزک آڈٹ کی ہدایت کی ہے، گویااستعفے قبول کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے۔فریقین کے درمیان ایک اعصابی جنگ لڑی جارہی ہے،جس کے اعصاب مضبوط ہوں گے وہ جیتے گا۔اپوزیشن خصوصاًمسلم لیگ نون اور جے یو آئی نے گزشتہ چار دہائیوں میں کی جانے والی سیاسی لڑائیاں ایسٹبلشمنٹ سے مل کر لڑی ہیں اور یہ بات ان کی قیادت خود بھی تسلیم کرتی ہے۔لانگ مارچ کا نتیجہ گوجرانوالہ تک کے سفر میں نکلنا اس ملی بھگت کا ثبوت ہے۔اس کھیل میں ملک اور عوام کو نقصان پہنچا۔کرپشن آکاس بیل کی طرح پھیلی، لے پالک سیاست کو فروغ ملا،گزشتہ دہائی 2008تا2018کے دوران ملک تیزی سے قرضوں کے بوجھ تلے دب گیا، ادارے تباہ ہوگئے، حکمران یہ سمجھنے لگے کہ وہ قانون سے بالا تر ہیں،بلکہ قومی اسمبلی میں دوتہائی اکثریت بھی فرمائش پر دی جانے لگی۔الیکشن ڈرامہ بن گئے،کبھی انتخابات کو چمک کا نتیجہ کہا گیا،کبھی یہ آر اوز(Returning Officer’s)کے مرتب کردہ کہلائے،الیکشن دھاندلی عدالتی کمیشن کی رپورٹ چشم کشا ہے،ڈالے گئے ووٹوں کے ریکارڈ کی جگہ بوروں سے ردی اخبارات نکلے۔اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے قومی اسمبلی کے فلور پر تسلیم کیا کہ ہر حلقے میں 40، 50ہزار جعلی ووٹ ڈالے گئے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ ڈھائی سال کے دوران پی ٹی آئی کی حکومت نے متعدد یو ٹرن لئے لیکن حیرانگی کی بات ہے کہ اس نے N.R.O.کے حوالے سے اپنا مؤقف تبدیل نہیں کیا۔اپوزیشن عمران خان کے مزاج کو سمجھنے میں ناکام رہی،اس نے عمران خان کو بھی ایک سیاست دان سمجھا۔حالانکہ وہ کبھی بھی سیاست دان نہیں بن سکتے۔وہ مزاجاً ایک ریفارمر ہیں،ہر شعبے میں سدھار کے خواہشمند ہیں۔ کرکٹ میں نیوٹرل ایمپائر لائے۔لاہور میں اربوں روپے کی لاگت کاشوکت خانم کینسر اسپتال تعمیرکیا،جس میں 70فیصد مستحق مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے، سالانہ اخراجات اربوں روپے ہیں۔سرکاری خزانے سے ایک روپیہ لئے بغیر دوسرا کینسر اسپتال پشاور میں اور تیسرا کراچی میں زیر تعمیر ہے۔ میانوالی جیسے دور دراز علاقے میں بین الاقوامی معیار کی یونیورسٹی قائم کی اور یہاں بھی 70فیصد مستحق طلباء مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں۔یہ ان کے ریفارمر ہونے کے ناقابل تردید شواہد ہیں۔اپنی جیب سے خرچ کرنا آسان اور لوگوں سے ایک ایک اینٹ چندہ لے کر اسپتال اور یونیورسٹی تعمیر کرنا اور کامیابی سے چلانا بہت مشکل کام ہے۔یہ درست ہے کہ ایسے رفاہی کام دوسرے لوگ بھی کر رہے،مگر عمران خان اور دوسروں میں یہ فرق ہے د وسرے سیاست میں نہیں کودے۔ ان میں سے کوئی وزارت عظمیٰ کے عہدے تک نہیں پہنچا۔ اپوزیشن اس پہلو کو نظر انداز نہ کرے۔اپوزیشن خود کہہ رہی ہے کہ ایسٹبلشمنٹ نیب ترامیم کے لئے مان گئی تھی، مگر عمران خان نہیں مانے۔اب یہ معاملہ راز نہیں رہا، عوام تک پہنچ چکا ہے۔ ایسٹبلشمنٹ رات کی تاریکی میں انگوٹھے لگوانے کی عادی ہے، دن کی روشنی میں ایسا ممکن نہیں۔ اپوزیشن کو مان لینا چاہیئے کہ اب پرانی سیاست نہیں چلے گی۔اب کوئی جنرل کاکڑ بغل میں اسٹک دبائے صدر اور وزیر اعظم دونوں کو بیک وقت گھر بھیجنے کی روایت نہیں دہرائے گا۔لیکن اگر اپوزیشن اپنی ناسمجھی سے حالات کواس مقام تک لے جانے میں کامیاب ہو گئی تو آنے والا جنرل ریفری کا کردار ادانہیں کرے گا، دونوں عہدے سنبھالے گااور تاحیات بیٹھا رہے گا۔فیصلہ اپوزیشن کو کرنا ہے؛ ہر پانچ سال بعدحکومت کی تبدیلی کا انتخابی راستہ۔۔ یا غیر متعینہ مدت کے لئے۔۔بے رحم مارشل لاء؟ یاد رہے اب ٹکٹکی سے باندھ کر کوڑے نہیں مارے جائیں گے، فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کیا جائے گا! اس لئے کہ چین میں یہی رواج ہے۔مدھم آواز میں پسندیدگی کے اشارے دیئے جاتے رہے ہیں۔سعودی وفد جنور ی میں پاکستان آرہا ہے لیکن 90کی دہائی والا کردار ادانے نہیں سابق دورے میں سرمایہ کاری کے ایم او یوزکوآگے بڑھانے آرہا ہے۔ کس کے ساتھ ہاتھ ملائے گا؟اپوزیشن یقیناجانتی ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں