امریکی پارلیمنٹ پر ٹرمپ کے حامیوں کا حملہ
امریکی پارلیمنٹ کی تاریخ میں 159سال بعد ٹرمپ کے حامی سیکیورٹی حصار توڑ کر پارلیمنٹ میں گھس گئے، اسپیکر کی کرسی پربیٹھ گئے، کمرے میں توڑ پھوڑ بلکہ لوٹ مار کی۔اطلاعات کے مطابق مظاہرین کے پس بارودی مواد تھا،امریکی نائب صدرمائیک پنس اور دیگراراکین نے بھاگ کر جان بچائی۔شہر میں پائپ بموں کی خبریں زیر گردش رہیں۔پالیمنٹ پر دھاوا بولنے سے پہلے مظاہرین (ٹرمپ کے حامیوں)نے ”امریکہ بچاؤ“ ریلی نکالی۔رخصت ہونے والے صدر ٹرمپ نے مظاہرین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مظاہرین کے دکھ کا احساس ہے، ان کا الیکشن چرا لیا گیا ہے۔ انہوں نے نائب صدر مائیک پنس کوبھی مشورہ دیا کہ وہ جو بائیڈن کی کامیابی کی توثیق نہ کرے۔ہنگامہ آرائی کے خاتمے کے لئے پولیس نے شیلنگ کی،چار افراد ہلاک ہوئے جبکہ متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ گزشتہ شام 6بجے سے صبح 6بجے تک کرفیو نافذ کیا گیا۔تاہم بعد میں پارلیمنٹ کا اجلاس ہوا اور کارروائی مکمل کی گئی۔ نو منتخب صدر جو بائیڈن نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا یہ جمہوریت پر غیر معمولی حملہ ہے،مظاہروں کا ڈرامہ امریکی عوام کی حقیقی نمائندگی نہیں،انہوں نے اس ہنگامہ آرائی کو بغاوت قرار دیا۔برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے امریکی کانگریس میں شرمناک مناظر کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں امریکا کی پہچان جمہوریت ہے اس لئے پر امن اقتدار کی منتقلی بہت اہم ہے۔یورپی یونین نے بھی امریکی صورت حال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان میں بھی ان مناظر کو دیکھ کر ان سیاست دانوں کو شدیدصدمہ ہوا جو پاکستانی عوام کو مختصر وقفوں سے یہ بتاتے رہتے ہیں کہ پاکستان کے سیاسی و معاشی مسائل کا بہترین حل یہ ہے کہ یہاں بھی امریکی صدارتی نظام نافذ کر دیا جائے۔رخصت ہونے والے صدر ڈونلڈٹرمپ نے امریکی معیشت اور سیاست کا بھانڈہ پھوڑ دیاہے۔کورونا وائرس کے سامنے امریکی حکومت کی بے بسی چھی نہ رہ سکی۔ پارلیمنٹ پر حملہ بد نظمی کی انتہا ہے۔
یہ کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی پیمانے کاسنجیدہ معاملہ ہے۔دراصل امریکہ کی ابتدائی شناخت ایک ایسے ملک کی ہے جس نے جاپان کے عوام پر دو ایٹم بم گرائے۔ان بموں کے لگائے ہوئے زخم کئی دہائیوں تک مندمل نہیں ہوئے، نباتات نے اگنا بند کردیا۔1945سے آج تک امریکہ دنیابھر میں مسلسل بمباری کرتا چلا آیا ہے۔عراق، شام، لیبیا، افغانستان اس کے بنائے ہوئے تازہ کھنڈرات ہیں۔ جیسے ہی ایرانی عوام نے امریکی پٹھو حکومت کا خاتمہ کیا امریکہ نے 8سال تک عراق کو لڑایا۔آج کل سعودی عرب اپنے تعلیمی نصاب میں اسرائیل مخالف اسباق حذف کرنے میں مصروف ہے۔امریکہ سے خریدا ہوا سینکڑوں ارب ڈالر کا جدید فوجی اسلحہ اسے اپنے ملک کے استحکام، عوام کی ترقی وخوشحالی اور ملکی دفاع کے قابل نہیں بنا سکا۔اب امریکی تھنک ٹینکس کو سوچنا ہوگا کہ جس افراتفری کے بل پر امریکہ پسماندہ ملکوں میں عدم استحکام پیدا کرکے انہیں آگ اور خون میں نہلایا کرتا تھا اب وہی کچھ امریکی گلی کوچوں میں رقص کرنے لگے ہیں۔یہ آگ کافی عرصے سے سلگ رہی ہے۔گوروں اور سیاہ فام امریکیوں کے درمیان نسلی امتیاز سلگتا ہواایسا آتش فشاں ہے جوپھٹنے کے قریب ہے۔ماضی قریب میں سیاہ فام جارج فلائیڈ کی گورے پولیس افسر کے ہاتھوں ہلاکت پر غم و غصے کی طاقتورلہر ابھری تھی، ایسی کئی لہریں معاشرے میں دھیرے دھیرے مجتمع ہو رہی ہیں۔دنیا میں معیشت کے نئے مراکز وجود میں آرہے ہیں۔ جاپان اور اس کے پڑوسی ممالک 76برسوں میں ان زخموں سے صحت یاب ہو چکے۔چین آج کروڑوں افیمی انسانوں کی ذہنی و جسمانی طور پر مریض آبادی نہیں رہا۔امریکی معیشت کو امریکہ میں للکار رہا ہے۔یاد رہے ڈونلڈٹرمپ نے حلف برداری کے بعد پہلی تقریر میں اسی دکھ کا اظہار کیا تھا۔چینی سرمایہ کاروں سے امریکی جوانوں کو روزگار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
جو بائیڈن کو ہوشیار ہو جانا چاہیئے کہ ٹرمپ کے ہمراہ کھڑے ناراض مظاہرین کو جمہوریت پر ایک غیر معمولی حملہ کہنے سے بیروز گاری کا عفریت اپنی بلوں میں جا کر نہیں چھپے گا۔ساری دنیا کا چوہدری بننے کا خواب پون صدی تک امریکی عوام کو تسکین فراہم کرتا رہا، مگر اب عالمی منڈیوں میں صارفین کی ضروریا ت اور پسند کا معیار محسوس کن حد تک پرانے مقام سے شفٹ کر چکے ہیں۔برق رفتار میڈیا نے دنیا کو ایک گلوبل ویلج میں تبدیل کر دیا ہے۔ ٹیکنالوجی نے دنیا کی رگوں میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔کوئی ملک کسی دوسرے ملک کو طاقت کے بل پر اپنا محکوم نہیں بنا سکتا۔1914(پہلی جنگ عظیم کے آغاز)سے آج تک مفلوک الحال انسانوں نے اپنی کھلی آنکھوں سے استحصال صرف ہوتا نہیں دیکھا بلکہ ایک صدی تک اس کی نوکیلی چبھن بھی لمحہ لمحہ اپنے قلب پر محسوس کی ہے۔جو بائیڈن کو جان لینا چاہیئے کہ انہیں ماضی سے مختلف سابق صدر ملا ہے۔وائٹ ہاؤس خالی کرنے تیار نہیں، اپنے حامیوں سے پارلیمنٹ پر حملے کرتاہے تاکہ پارلیمنٹ نئے صدر کی انتخابی جیت کی رسمی کارروائی نہ کر سکے۔ سابق صدر کے تیور بتا رہے ہیں کہ ان کاجنوں جلد چھٹنے والا نہیں۔ممکن ہے بیٹی کے روپ میں ایک بار پھر وائٹ ہاؤس کے مکین بنیں۔نہ بھولیں کہ وہ متعدد بار دیوالیہ ہونے کے باوجود ایک بڑے دولت مند فرد ہونے کی شناخت رکھتے ہیں۔اپنے حامیوں کے دکھ درد کو جس طرح اپنے خطاب میں بیان کیا نظرانداز نہ کیا جائے۔ان کالہجہ کسی اور مہم کا اشارہ دے رہا تھا۔شاید سابق صدر اپنے کندھے پر اسرائیل کا خوشگوار لمس ابھی تک محسوس کر رہے ہوں۔کچھ خواب ادھورے ہوں جنہیں پورا کرنے کے لئے وہ ایک بار پھر وائٹ ہاؤس میں رہائش پذیر ہونا ضروری سمجھتے ہوں۔جو بائیڈن کو غافل نہیں ہونا ایک ضدی اور کینہ پرور مخالف ان کے تعاقب میں ہے۔


