کوئٹہ:گرین بس منصوبہ مزدور کش ہے، قبول نہیں، لوکل بس ایسوسی ایشن
کوئٹہ:متحدہ لوکل بس ایسو سی ایشن کا اجلاس زیر صدارت سیکرٹری جنرل شیر احمد بلوچ منعقد کیا گیا اجلاس میں تمام لوکل روٹس کے صدور اور ایسو سی ایشنز کے سینئر عہدیداروں نے شرکت کی اجلاس سے ایسو سی ایشن کے صدر حاجی محمد اسحاق نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں پہلے سے 650لوکل بسیں مختلف روٹس پر چل رہے ہیں اور ان بسوں کیلئے آج تک کوئی ٹرمنل موجود نہیں جبکہ کوئٹہ شہر میں ٹریفک کی صورتحال یہ ہے کہ گھنٹوں ٹریفک جام رہتی ہے اگر حکومت بلوچستان ٹرانسپورٹ کے صورتحال میں بہتری لانے کیلئے سنجیدہ ہے تو سب سے پہلے کوئٹہ شہر گرین بس منصوبے سے پہلے کوئٹہ شہر کے انفرا اسٹرکچر میں بہتری لائی جائے اجلاس سے لوکل بس ایسو سی ایشن کے جنرل سیکرٹری شیر احمد بلوچ نے کہا کہ بلوچستان پہلے سے ایک پسماندہ صوبہ ہے جہاں بے روزگاری،بھوک اورافلاس نے لوگوں کی زندگیوں کو دو بر کردیا ہے اب ایسے منصوبے متعارف کرنا جن سے بے ر وزگاری میں کمی کے بجائے اضافہ ہوگا ہمارے نزدیک یہ منصوبہ مزدور کش منصوبہ ہے کیونکہ اس منصوبے سے ہزاروں خاندانوں کا معاشی قتل عام ہوگا جو کے کسی بھی صورت نا قابل قبول ہے اجلاس میں لوکل بس ایسو سی ایشن کے عہدیدروں نے شرکت کی جن میں سرپرست اعلیٰ اختر جان کاکڑ،چیئر مین محمد حنیف شاہوانی،مجید زہری،عمر آفریدی،محراب لہڑی،انور جتک،عالم خان کاکڑ،محمد اسلم کاکڑ اور دیگر ٹرانسپورٹروں نے شرکت کی اور اجلاس میں ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دیکر فیصلہ کیا گیا کہ جلد از جلد بلوچستان کے ٹرانسپورٹروں اور گوڈز ایسو سی ایشن،ٹینکرا یسو س ایشن اور دیگر یونینز سے رابطہ کر کے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا آکر میں کہا گیا کہ ہم حکومت بلوچستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ منصوبہ ترک کیا جائے اور لوگوں سے ان کے مواقع نہ چھینے جائے بصورت دیگرٹرانسپورٹر سخت ا حتجاج کرنے پرمجبور ہونگے جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔


