سی پیک جائزہ اجلاس، حب میں پاور پلانٹ کا منصوبہ مکمل، خصوصی ڈیسک قائم کرنے پر اتفاق

کوئٹہ: وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت بلوچستان میں سی پیک کے تحت منصوبوں کی پیش رفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں وفاقی وزیر دفاعی پیداوار محترمہ زبیدہ جلال، صوبائی وزرا میر عارف جان محمد حسنی، میر سلیم احمد کھوسہ، پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات محترمہ بشری رند، چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات عبدالصبور کاکڑ، وزیراعلی کے پرنسپل سیکرٹری زاہد سلیم سمیت متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز، ڈی جی پی آر بلوچستان و سنئیر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو چیئرمین سی پیک اتھارٹی اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات کی بلوچستان میں سی پیک پروجیکٹس پر پیشرفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بتایا کہ توانائی، روڈ انفراسٹرکچر، ریلوے، انڈسٹریل کو آپریشن اور سو شیو اکنامک سیکٹرز کے 23 منصوبے بنائے گئے ہیں۔ حب میں سی پیک کے تحت 1320 میگاواٹ کا کول فائر پاور پلانٹ منصوبہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ گوادر سمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان منصوبہ مکمل ہو گیا ہے۔ نئے گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ، ایسٹ بے ایکسپریس وے، گوادر پورٹ اور فری زون کی ڈیویلپمنٹ، پاک چائنہ فرینڈشپ ہسپتال کے فزیکل کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔ جبکہ 13 پروجیکٹس پائپ لائن میں ہیں۔ وزیر اعلی بلوچستان کی زیر صدارتاجلاس میں سی پیک منصوبوں سے متعلق مسائل کو جلد حل کرنے کا عزم کرتے ہوئے منصوبوں کے فالو اپ اور پیش رفت کو فاسٹ ٹریک کرنے کیلئے خصوصی ڈیسک قائم کر نے پر اتفاق کیا گیا۔ چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ نے بتایا ہے کہ سی پیک فیز ٹو میں داخل ہوچکے ہیں۔ گوادر پورٹ کی مکمل فعالیت سے ترقی و خوشحالی آئے گی۔ سی پیک میں سینٹرل ایشئن ممالک سرمایہ کاری کرنے میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔ سی پیک منصوبوں میں مقامی لوگوں کو روزگار کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ملک کے روشن مستقل کی ضمانت ہے۔ سی پیک سے متعلق منصوبوں کے روابط کو مربوط بنانے کے لئے تما م ضروری اقدامات کئے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں