جوکروں کی حکومت کو باعزت طریقے سے گھر چلے جانا چاہیے،شازیہ مری

اسلام آباد:پیپلزپارٹی کی سیکرٹری اطلاعات شازیہ مری نے کہا ہے کہ جوکروں کی حکومت کو باعزت طریقے سے گھر چلے جانا چاہیے،وفاقی حکومت سندھ حکومت کو ویکسین منگوانے کی اجازت نہیں دے رہی، صوبوں کے ساتھ اس سے بڑھ کر دشمنی کیا ہوگی؟پی ڈی ایم کے تحت ایک ایکشن پلان بنا اور اس پر مرحلوار عملدرآمد بھی ہو رہا ہے، سینیٹ میں تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر جو کچھ ہوا وہ ایک المیہ ہے،الیکشن کمیشن کیوں اس معاملے پر سو رہا ہے،اسپیکر کی کرسی پر براجمان شخص کو رولز اور آئین کا پتہ ہونا چاہئے۔ بدھ کو پیپلزپارٹی کی سیکرٹری اطلاعات شازیہ مری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اچھا ہے کہ دوست ملک نے کووڈ ویکسین بھیجی ہے، حکومت نے ایک روپیہ ویکسین کی خریداری پر نہیں لگایا،ویکسین کی خریدار نہیں بلکہ حکومت کے پاس سینیٹ الیکشن سے قبل ایم پیز کو رقم دینے کے پیسے ہیں،پیسوں کے ذریعے حکومت اپنے ہی ووٹ خرید رہے ہے اور یہ ہارس ٹریڈنگ ہے،حکومت مذاق بن چکی ہے، جوکروں کی حکومت کو باعزت طریقے سے گھر چلے جانا چاہئے،اس وقت کی حکومت اپنے ایکشن سے بتا چکی ہے کہ انکو عوام کی کوئی فکر نہیں، وفاقی حکومت سندھ حکومت کو ویکسین منگوانے کی اجازت نہیں دے رہی، صوبوں کے ساتھ اس سے بڑھ کر دشمنی کیا ہوگی؟۔ انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم کا جمعرات کو اجلاس اہم ہوگا، پی ڈی ایم کے تحت ایک ایکشن پلان بنا اور اس پر مرحلوار عملدرآمد بھی ہو رہا ہے، حیدرآباد میں 9 فروری کو بہت بڑا جلسہ ہونے جا رہا ہے،پی ڈی ایم ٹوٹ گئی ہے ایسا کچھ نہیں، یہ حکومت کی چالاکی ہے،آئے روز ڈی چوک پر لوگ احتجاج کر رہے ہیں،ان کی کرپشن کی داستان ایک نہیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ پنجاب سے متعلق قبضے کی باتیں کی جا رہی ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب ان سرگرمیوں کی سرپرستی کر رہے ہیں،پنجاب کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے،وزیراعظم نے کہا کہ سندھ ہمارا صوبہ نہیں، بلاول بھٹو نے تحریک عدم اعتماد کی بات کی، تاثر دیا جا رہا ہے کہ بلاول بھٹو نے تحریک سے متعلق جو بات کی وہ کوئی نئی بات ہے، تحریک عدم اعتماد پی ڈی ایم کے ایکشن پلان میں شامل ہے،تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر تنقید پر حیرانی ہوئی، تحریک عدم اعتماد پی ڈی ایم کی نقاط کا حصہ ہے،بلاول بھٹو نے ایکشن تحریک عدم اعتماف سے متعلق بات ایکشن پلان کے تحت بات کی، سینیٹ میں تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر جو کچھ ہوا وہ ایک المیہ ہے،خفیہ ووٹنگ ہر رکن کا ایک ووٹ دینے کا جمہوری حق ہوتا ہے، اس وقت پیسے دیئے جا رہے ہیں اس معاملے پر الیکشن کمیشن کہاں ہے؟ الیکشن کمیشن کیوں اس معاملے پر سو رہا ہے، سینیٹ انتخابات سے قبل حکومت کے اقدامات انتخابات سے قبل دھاندھلی ہے،موجودہ حکومت نے پارلیمان کی تضحیک کی ہے،اسپیکر نے جس طریقے سے ایوان کو چلایا ہے اس پر افسوس ہے،اسپیکر کی کرسی پر براجمان شخص کو رولز اور آئین کا پتہ ہونا چاہئے، اسپیکر آج بھی ایک کرسی پر ورکر ہوکر بیٹھا ہے وہ آج تک اسپیکر ہوکر نہیں بیٹھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں