بلوچستان کو سب سے زیادہ فنڈ ملا، غلط منصوبہ بندی کے باعث ضائع کیا گیا، جام کمال

ژوب:وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہاہے کہ بلوچستان کو سب سے زیادہ فنڈز ملا ہے اگر فنڈز کا صحیح استعمال کیا جاتا تو آج بلوچستان بہت ترقی کر چکا ہوتا، سابقہ حکومتوں نے ایک ویرانے میں شیرانی ہیڈ کوارٹر بنا کر خطیر سرمایہ غلط جگہ پر لگایا، شیرانی ٹان ہیڈ کوارٹر میں سکول سرکٹ ہاؤس اور دفاتر تو بن گئے مگر کوئی ملازم موجود نہیں ہے ژوب میر علی خیل روڈ کی تعمیر سے ژوب اور شیرانی کی خیبرپختونخوا، اسلام آباد تک رسائی آسان ہوگی۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز ژوب اور شیرانی کے دورے کے موقع پر مختلف تقریبات کے افتتاح اور سنگ بنیاد رکھنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان ایک روزہ دورے اتوار کے روز ژوب پہنچے،ژوب ائیرپورٹ پر صوبائی وزیر برائے لائیواسٹاک حاجی میٹھاخان کاکڑ نے وزیراعلیٰ بلوچستان کااستقبال کیا اس موقع پرکمشنر ژوب ڈویژن، ڈی آئی جی ژوب رینج، ڈپٹی کمشنر ودیگر بھی وجود تھے۔وزیراعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سرداربابر موسیٰ خیل،صوبائی وزرا ء نور محمد دمڑ،عبدالخالق ہزارہ، سینیٹر انوار الحق کاکڑ، ڈاکٹر نواز خان ناصر بھی تھے۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ٹراما اور برن سینٹر،یادگار شہدا پر سڑک توسیعی منصوبے کاافتتاح اورشیرانی ٹاؤن ہیڈ کوارٹر میں ملازمین رہائشی منصوبے اور میر علی خیل ٹانک شاہراہ کے فیز 2 کا سنگ بنیاد رکھا،شیرانی کے دورے کے موقع پروزیراعلی کو ڈپٹی کمشنر شیرانی کی شیرانی ٹاؤن پروجیکٹ سے متعلق بریفنگ دی اور بتایاکہ ژوب میرعلی خیل روڈ 75 کلومیٹر کا منصوبہ ہے۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ دو ڈھائی سالوں میں جب پی ایس ڈی پی یا بلوچستان کی ترقی کی بات آئی ہے توہم یہی کہتے آئے ہیں کہ بلوچستان کو اللہ نے مالامال کیاہے لیکن اگر اس دولت کو صحیح معنوں میں استعمال کرتے تو آج بلوچستان کی یہ حالت نہیں ہوتی،اسٹریٹ لائٹس،بلڈنگز،روڈز وغیرہ تمام چیزیں انسانوں کیلئے ہوتی ہے یہ پہاڑوں یا خشکابے کی زمینوں کیلئے نہیں ہوتی،انہوں نے کہاکہ شیرانی ضلع کا مین شہر یہاں سے 60کلومیٹر دور ہیں یہاں سابقہ حکومتوں نے سرکٹ ہاؤس،دفاتر،پارکس،ہسپتال وغیرہ تعمیر تو کردئیے لیکن بدقسمتی سے یہاں نہ تو سکول کا عملہ اور نہ ہی ہسپتال کا عملہ ہے اتنا بڑا سرکٹ ہاؤس پورے بلوچستان میں نہیں ہے لیکن یہ ایک ویرانے میں بنا یاگیاہے اس طرح سے بلوچستان کا پیسہ ضائع ہوتاہے اور ہم نے بار ہا کہاہے کہ اگر بلوچستان کا پیسہ صحیح استعمال ہوں تو اس سے لوگ مستفید ہوں گے ایک شہر جس کی آبادی 20سے 25ہزار ہیں وہاں اساتذہ کی کمی ہے،عملہ نہیں ہے زمینیں سیٹل نہیں ہے،دس سال پہلے یہاں جس حکومت نے منصوبہ بندی کی ہے لیکن عوام مستفید نہیں ہورہی اس سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ منصوبہ بندی غلط ہوئی ہے بلوچستان کا پیسہ ضائع کردیاگیاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں