اپوزیشن جماعتیں صدر کے مواخذے کا لائحہ عمل تیار کریں، سردار اخترمینگل
کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ و رکن قومی اسمبلی سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ آئین میں ترمیم صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ممکن نہیں ہے حکومت آرڈیننس اور آرڈیننس فیکٹری کے سہارے چل رہی ہے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں کے دوران آرڈیننس جاری کر نے پر صدر مملکت کے خلاف آئین کی خلاف ورزی کا مقدمہ ہونا چاہیے، اپوزیشن جماعتیں سنجیدیگی سے صدر کے مواخذے کا لائحہ عمل تیار کریں، یہ با ت انہوں نے اتوار کو این این آئی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی، سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ حکومت صرف آرڈیننس اور آرڈیننس فیکٹری والوں کے سہارے چل رہی ہے آئین میں ترمیم صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نہیں کی جاسکتی حکومت سینیٹ کے انتخابات خفیہ کی بجائے اوپن بیلٹ کے ذریعے کروانا چاہتی ہے یہ آئینی ترمیم سے ممکن ہے اس مسئلے پر حکومت نے سپریم کور ٹ سے بھی رائے طلب کی تھی جسے سپریم کورٹ نے مسترد کردیا تھا اوپن بیلٹ صرف اور صرف آئینی ترمیم کے ذریعے ہی ممکن ہے انہوں نے کہا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں کے دوران صدارتی آرڈیننس جاری کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے صدر اگر ایسے آرڈیننس جاری کر یں تو انکے خلاف آئین کی خلاف ورزی کے حوالے سے مقدمہ درج ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ اگر طاقتور قوتوں کے خلاف آرٹیکل 6کے حوالے سے کاروائی نہیں کیا جاسکتی تو کم از کم صدر مملکت کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے اپوزیشن کو سنجیدیگی سے صدر کے مواخذے کا لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا


