سینیٹ انتخابات 10کروڑ روپے کی آفر ہوئی تھی، شوکت یوسفزئی

اسلام آباد :ممبر صوبائی اسمبلی و رہنما تحریک انصاف شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات 10کروڑ روپے کی آفر ہوئی تھی اور آفر این جی او کی ایک خاتون نے پیپلز پارٹی کی جانب سے آ کر کی تھی، پیسوں کی آفر ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی اور ممبر میانداد خان کو بھی ہوئی تھی جبکہ سینیٹ میں ووٹ فروخت کرنے والوں کی ویڈیوز آنا ملک کیلئے انتہائی بدنامی کا باعث ہے۔منگل کو رہنما تحریک انصاف شوکت یوسفزئی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ انتخابات 2018میں ایم پی ایز کی خریدوفروخت کی ویڈیوز آنا بدقسمتی کی بات ہے اور اچھے اچھے لوگ پیسے کے سامنے جھک گئے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخابات 2018میں مھجے اور اس وقت کے ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی کو بھی ہوئی تھی۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ مجھے دس کروڑ روپے کی آفر ہوئی تھی، ایک خاتون میرے پاس آئی تھیں لیکن ہم نے ان سے انکار کیا، جو خاتون کسی این جی او سے جن کا تعلق تھا پیپلز پارٹی کی طرف سے آئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں دھاندلی ہوتی ہے، پیسے سے لوگوں کو خریدا جاتا ہے، اس معاملے کو اب روکنا چاہیے، اوپن بیلٹ کی بات وزیراعظم عمران خان کی بات درست ہے اور جس کی جتنی سیٹیں ہیں اس کو اتنی سیٹیں مل جائیں گی۔(اح+م ا)

اپنا تبصرہ بھیجیں