یمن میں سرکاری فوج اور علیحدگی پسندوں کے درمیان شدید لڑائی جاری، 7 افراد ہلاک، متعدد زخمی
ثناء(مانیٹرنگ ڈیسک) یمن کے مشرقی صوبے حضرموت میں جھڑپیں ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہیں۔ سعودی عرب کے حمایت یافتہ گورنر اور سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کے علیحدگی پسند عناصر کے درمیان مختلف علاقوں میں شدید لڑائی جاری ہے، جس کے باعث خطے کی سیکیورٹی صورتحال نہایت کشیدہ ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حضرموت میں سرکاری فورسز اور ایس ٹی سی کے جنگجوﺅں کے درمیان بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں فائرنگ اور گولہ باری کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ جھڑپوں کے باعث شہری آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا اور معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے ہیں۔ سدرن ٹرانزیشنل کونسل نے سعودی عرب پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد کے قریب ان کی فورسز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایس ٹی سی کا مو¿قف ہے کہ سعودی حمایت یافتہ دستوں کی جانب سے کارروائیاں دراصل حضرموت میں ان کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کی کوشش ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حضرموت کے شہر سیﺅن میں واقع ہوائی اڈے اور ایک فوجی تنصیب کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی حملوں میں وادی حضرموت اور صحرائے حضرموت کے علاقے میں واقع الخشعہ کیمپ پر بمباری کی گئی، جہاں سات افراد ہلاک جبکہ بیس سے زائد زخمی ہوئے۔ دوسری جانب حضرموت کے گورنر نے ایس ٹی سی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی اڈوں کا کنٹرول واپس لینے کی کوششوں کا مقصد کسی تصادم کو ہوا دینا نہیں بلکہ یمن کے جنوبی صوبوں میں ریاستی رٹ کو پرامن طریقے سے بحال کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ تمام مسلح گروہ ریاستی نظم و نسق کے تحت آئیں تاکہ علاقے میں استحکام قائم ہو سکے۔


