امریکا اور اسرائیل کھلے عام عدم استحکام کی حمایت کررہے ہیں، فسادیوں سے سختی کیساتھ نمٹا جائیگا، ایران
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایڑئی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ ایران میں کھلے عام عدم استحکام کی حمایت کی ہے جبکہ معاشی احتجاج کا فائدہ اٹھا کر بے امنی پھیلانے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور کسی قسم کی نرمی نہیں کی جائے گی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پیر کو عدالتی حکام کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے غلام حسین محسنی ایڑئی نے کہا کہ بےامنی کے ادوار میں اسلامی نظام ہمیشہ ان افراد کو موقع دیتا ہے جو دھوکے میں آ گئے ہوں یا نادانستہ طور پر نقصان دہ سرگرمیوں میں ملوث ہو گئے ہوں تاکہ وہ فسادیوں سے خود کو الگ کر کے اپنی پوزیشن واضح کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ روزگار اور معاشی فلاح و بہبود سے متعلق مظاہرین اور ناقدین کے تحفظات سنے جائیں گے، تاہم جو عناصر اس صورتحال کو بےامنی پھیلانے اور ملک و عوام کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی اور فسادیوں کے سامنے خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے فسادیوں کو خبردار کیا کہ ماضی کے برعکس اس بار کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی کیونکہ موجودہ مرحلے پر ایرانی عوام کے اصل دشمن، یعنی امریکا اور صیہونی ریاست کھلے عام ملک میں بےامنی اور انتشار کی حمایت کر رہے ہیں۔ محسنی ایڑئی نے بتایا کہ انہوں نے ملک بھر میں اٹارنی جنرل اور استغاثہ کو ہدایت کی ہے کہ فسادیوں اور ان کے حامیوں کے خلاف قانون کے مطابق اور پوری سختی کے ساتھ کارروائی کی جائے اور کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے۔


