کیچ میں اغواء برائے تاوان کی وارداتیں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں، مغویوں کو بازیاب کرایا جائے، پھلین بلوچ
تربت (بیورو رپورٹ) نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور رکن قومی اسمبلی پھلین بلوچ نے مغوی حسیب یاسین اور شاہ نواز گل جان رند کے اغواءبرائے تاوان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں مغویوں کے اہل خانہ شدید ذہنی اذیت اور کرب سے گزر رہے ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تاحال ان کی بازیابی کے لیے کوئی ٹھوس اور مو¿ثر پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ یہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے، مگر یہاں عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تربت سمیت ضلع کیچ میں اغواءبرائے تاوان کی بڑھتی ہوئی وارداتیں نہ صرف عوام میں شدید خوف و ہراس پھیلا رہی ہیں بلکہ یہ ریاستی رٹ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ روز بروز امن و امان کی صورتحال بگڑتی جارہی ہے، جس کے باعث شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ پھلین بلوچ نے کہا کہ نیشنل پارٹی شروع دن سے اس بات پر زور دیتی آ رہی ہے کہ بلوچستان میں پائیدار امن صرف عوام کے تحفظ، انصاف کی فراہمی اور قانون کی بالادستی سے ہی ممکن ہے۔ اغواءبرائے تاوان جیسے سنگین جرائم کا خاتمہ کیے بغیر معاشرتی استحکام اور ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے فوری طور پر سنجیدہ، مربوط اور عملی اقدامات کریں، مغوی افراد کو بحفاظت بازیاب کرائیں اور اغواءمیں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس سنگین مسئلے پر خاموشی اور غفلت کا سلسلہ جاری رہا تو عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد مزید متزلزل ہو جائے گا۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی مغوی افراد کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور قومی اسمبلی سمیت ہر فورم پر اس مسئلے کو اٹھاتی رہے گی۔ واضح رہے کہ شاہ نواز ولد حاجی گل جان کو یکم دسمبر 2025 کو ہسپتال سے گھر جاتے ہوئے ملائی بازار تربت کے علاقے سے اغوا کیا گیا، جبکہ حسیب یاسین کو 7 دسمبر 2025 کو شب 10 بجے آپسر کے علاقے میں اپنی دکان سے گھر جاتے ہوئے، گھر کے قریب سے اغوا کیا گیا۔


