دفعہ 144کی وجہ سے عام شہری بلاجواز پابندیوں کی زد میں آتے ہیں، جے یو آئی
کوئٹہ (آن لائن)جمعیت علما اسلام ضلع کوئٹہ کے ترجمان نے حکومت بلوچستان کی جانب سے دفعہ 144 کے نفاذکے نوٹیفکیشن کی سخت الفاظ میں مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جرائم اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے دفعہ 144 کا نفاذ کسی صورت موثر حل نہیں۔ترجمان نے کہا کہ ماضی میں بھی بارہا دفعہ 144 نافذ کی گئی، لیکن اس سے نہ تو جرائم میں کمی آئی اور نہ ہی امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی، بلکہ اس کے برعکس عام شہری، محنت کش اور غریب موٹر سائیکل سوار ہی اس کے منفی اثرات کا شکار بنتے رہے ہیں۔ چوکوں اور ناکوں پر کھڑی پولیس کی جانب سے عوام کو ہراساں کرنا اور رشوت ستانی ایک معمول بن چکا ہے، جس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے والے افراد اس طرح کے اقدامات سے کبھی متاثر نہیں ہوتے، بلکہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچ نکلتے ہیں، جبکہ عام شہری بلاجواز پابندیوں کی زد میں آتے ہیں۔جمعیت علما اسلام ضلع کوئٹہ کے ترجمان نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ وہ نمائشی اقدامات کے بجائے مثر اور عملی حکمتِ عملی اختیار کرے، پولیس نظام کو بہتر بنائے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جوابدہ بنا کر حقیقی معنوں میں جرائم کی روک تھام کو یقینی بنائے، بصورتِ دیگر ایسے فیصلے عوامی بے چینی اور بداعتمادی میں مزید اضافہ کریں گے۔


