منظم منصوبہ بندی کافقدان، کوئٹہ میں سڑکوں کی کشادگی عوام کیلئے عذاب بن گئی، ٹریفک کانظام درہم برہم

کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر) منظم منصوبہ بندی کافقدان، کوئٹہ میں سڑکوں کی کشادگی عوام کیلئے عذاب بن گئی، شہرکی سڑکوں کواکھاڑکرملبہ اسی جگہ چھوڑ دیا گیا جس سے ٹریفک کانظام درہم برہم ہوگیا ہے۔ عوامی حلقوں نے حکام بالاسے نوٹس لینے کامطالبہ کیا ہے۔ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ شہر میں شاہراہوں کو کشادہ کرنے کے نام پر جاری ترقیاتی منصوبے عوام کے لیے شدید مشکلات کا سبب بن گئے ہیں۔ ترقی کے نام پرجناح روڈسائنس کالج چوک، پرنس روڈ، زرغون روڈ، سمنگلی روڈ، نیوسبزل روڈ،گوالمنڈی چوک، امدادچوک، ایئرپورٹ روڈبلیلی ودیگر علاقوں میں سڑکیں اکھاڑ کر چھوڑ دی گئی ہیں جبکہ ٹھیکیداروں نے تعمیراتی کام کاملبہ بھی وہیں جمع کردیااوراس کو ہٹانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے، جس کے باعث نہ صرف شہریوں کو آمد و رفت میں دشواری کا سامنا ہے بلکہ ٹریفک کا نظام بھی مکمل طور پر درہم برہم ہو چکا ہے۔شہریوں نے صوبائی حکومت اورمتعلقہ حکام کی کارکردگی پرتنقید کرتے ہوئے بتایاکہ سمنگلی روڈ ودیگر شاہراہوں پر تعمیراتی کام انتہائی سست روی کا شکارہوگیا ہے۔ کئی مہینوں سے سڑکوں کوتوڑ کرایسے ہی چھوڑدیاگیاہے، متعلقہ حکام کی عدم دلچسپی کی وجہ سے نہ سڑکوں کی تعمیرکاکام مکمل کیا جا رہا ہے اور نہ ہی ملبہ ہٹایا جا رہا ہے، جس کے باعث گرد و غبار میں اضافہ اور ٹریفک حادثات کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔شہریوں کاکہناتھا کہ سڑکو ں کی تعمیرومرمت کیلئے کوئی منظم منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے، ایک طرف جہاں پرکام سست روی کاشکارہے وہیں ٹھیکیداروں نے ٹریفک کو ون وے کردیاہے، جس سے متبادل راستوں پر گاڑیوں کا بے تحاشا رش بڑھ گیاہے۔ دفاتر جانے والے سرکاری ملازمین، طلبہ، مریضوں اور عام شہریوں کو روزانہ گھنٹوں ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔شہریوں نے بتایاکہ ٹریفک پولیس اور متعلقہ محکموں کے درمیان رابطے کاکوئی موثر نظام موجودنہیں جس کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔ تعمیراتی کام کی سائٹ پرکہیں بھی سائن بورڈ نصب ہیں اور نہ ہی ٹریفک کی رہنمائی کے لیے اہلکار موجود ہیں، جس کے باعث شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرناپڑتاہے۔عوامی حلقوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کرتے ہوئے ٹھیکیداروں کو کام مقررہ مدت میں مکمل کرنے کا پابند بنایا جائے اور سڑکوں کے درمیان جمع ہونے والاملبہ فوری طور پر ہٹایا جائے۔ دوسری جانب متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ ترقیاتی کام عوامی مفاد میں کیے جا رہے ہیں اور کوشش ہے کہ انہیں جلد از جلد مکمل کیا جائے، تاہم شہریوں کا مو¿قف ہے کہ بغیر منصوبہ بندی اور نگرانی کے ایسے منصوبے فائدے کے بجائے مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں