عوام کا تحفظ نہیں کرسکتے تو حکمرانی کا کوئی اخلاقی جواز نہیں رہتا، حکمرانوں کو اپنی روش تبدیل کرنا ہوگی، اے این پی
چمن (آن لائن) عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماﺅں نے چمن شہر میں امن و امان کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال آزادی اظہار رائے اور سیاسی عمل پر قدغن سیاسی کارکنوں کی غیر قانونی حراست واپڈا کی جانب سے ناروا اور غیر اعلانیہ طویل لوڈشیڈنگ لیویز فورس اور دیگر محکموں میں مبینہ خرید و فروخت کے زریعے غیر قانونی و من پسند جرائم پیشہ افراد کی بھرتیوں ڈیورنڈ لائن سے متصل تجارت اور آمدورفت پر عائد پابندیوں اور کوئٹہ چمن شاہراہ پر مسلح گروہوں کی جانب سے بھتہ خوری خلاف شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان تمام مسائل کو حکومت اور انتظامیہ کی نااہلی کا شاخسانہ قرار دیا ہے اگر حکمرانوں نے اپنی روش تبدیل نہ کی تو راست اقدام اٹھانے سے گریز نہیں کیا جائیگا۔ ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عبیداللہ عابد اے این پی چمن کے ضلعی صدر عبدالخالق حقمل تاجر لغڑی اتحاد کے رہنما غوث اللہ خان اچکزئی اے این پی کے ضلعی جنرل سیکرٹری سمیع اللہ خان اچکزئی مرکزی ایڈیشنل سالار رزاق بابو ضلعی سینئر نائب صدر چیئرمین گل زمان اچکزئی تحصیل صدور گل جانو عصمت وار خطا وزیر خان اچکزئی ماسٹر شراف الدین و دیگر نے چمن میں اے این پی کے زیر اہتمام احتجاجی جلسے کے شرکا سے خطاب کے دوران کیا اس سے پہلے احتجاجی ریلی نکالی گئی جو چمن شہر کے مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی باچاخان مرکز چمن کے سامنے احتجاجی جلسے میں تبدیل ہوئی جس میں چمن کے شہریوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی مظاہرین بدامنی بیڈ گورننس معاشی قتل عام واپڈا کے ناروا لوڈ شیڈنگ اور غیر قانونی بھرتیوں خلاف فلک شگاف شعار دے رہے تھے احتجاجی جلسے کے شرکا سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چمن اس وقت سنگین انتظامی معاشی اور امن و امان کے بحران سے دوچار ہے آئے روز چوری ڈکیتی رہزنی اور دیگر جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث شہری شدید اضطراب کا شکار ہیں جبکہ متعلقہ ادارے امن و امان کی بحالی میں بری طرح ناکام دکھائی دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت اور حکمرانوں کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اگر وہ اس میں ناکام ہوں تو انہیں حکمرانی کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں رہتا مقررین نے واپڈا کی کارکردگی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی مفلوج کر دی ہے، بجلی کی عدم فراہمی سے کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہو چکی ہیں اور طلبہ کی تعلیم سمیت زندگی تمام شعبہ ہائے جات بری طرح متاثر ہو رہی ہے احتجاج کے دوران لیویز فورس سے متعلق امور پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا گیا کہ لیویز فورس اور محکموں میں خرید و فروخت کے زریعے غیر قانونی اور من پسند بھرتیاں کی جا رہی ہیں جو شفافیت اور میرٹ کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے لہذا ان بھرتیوں کی فوری تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائےمقررین نے چمن میں لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کے فیصلے کو عوام دشمن عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ لیویز فورس ایک مقامی مثر اور عوام دوست ادارہ ہے جس نے ہمیشہ امن و امان کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے اس لیے اسے ختم یا پولیس میں ضم کرنے کے بجائے مزید مضبوط بنایا جائے آخر میں مقررین نے حکومت اور متعلقہ اداروں کو خبردار کیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات کو فوری طور پر تسلیم نہ کیا گیا تو عوامی نیشنل پارٹی احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کرنے پر مجبور ہو گی۔


