مستونگ اور سریاب کو دہائیوں سے ایک منظم اور دانستہ ایجنڈے کے تحت پسماندہ رکھا گیا، ڈاکٹرمالک
کوئٹہ(این این آئی)نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ سریاب کو دہائیوں سے ایک منظم اور دانستہ ایجنڈے کے تحت پسماندہ رکھا گیا، جہاں کے عوام کو بنیادی سہولیات، معیاری تعلیم اور ترقی کے مواقع سے محروم رکھا گیا، تعلیم خصوصاً کوالٹی اور ٹیکنیکل ایجوکیشن ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے سریاب کے عوام اپنے سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق کا تحفظ کرسکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملک فیصل شاہوانی کی رہائش گاہ پر نیشنل پارٹی کے عہدیداران، کارکنان اور علاقائی معتبرین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع نیشنل پارٹی کے صوبائی کسان سیکرٹری حاجی فاروق شاہوانی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔نیشنل پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ ملک فیصل شاہوانی اور ملک شہریار شاہوانی کی ساتھیوں سمیت شمولیت نیشنل پارٹی کی قومی سیاست اور قیادت پر اعتماد کا اظہار ہے۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ سریاب اور مستونگ ہمیشہ سے قومی شعور و نیشنلزم کا گڑھ رہا ہے ، مگر ان علاقوں کو جان بوجھ کر کمزور کیا گیا تاکہ یہاں کی عوام کو سیاسی طور پر غیر مو¿ثر رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کوئی مفاداتی یا وقتی سیاست نہیں کرتی بلکہ نظریے، اصول اور عوامی حقِ حکمرانی پر یقین رکھتی ہے۔ نیشنل پارٹی کی فکری اور نظریاتی سیاست سیاسی کارکنوں کی شعوری تربیت پر مبنی ہے، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کو قومی اکائی و سیاسی تناظر میں دیکھنے کے بجائے محض جغرافیائی خطہ تصور کیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے ہے۔جو بلوچستان کے ساتھ ناانصافی ہے۔انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ ایک سنگین انسانی مسلہ ہے جس نے بلوچستان کے ہر گھر کو متاثر کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ نیشنل پارٹی سیاسی جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے منظم سیاسی جماعت ہی قومی بقاء و عوامی حقوق کی ضامن ہے۔اس موقع پر نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر ڈاکٹر اسحاق بلوچ مرکزی ترجمان علی احمد لانگو صوبائی کسان سیکرٹری حاجی فاروق شاہوانی ضلعی لیبر سیکرٹری نصراللہ شاہوانی سینئر رہنماء حاجی واحد شاہوانی ملک سیف اللہ شاہوانی ملک منظور شاہوانی عبدالعزیز سرپرہ چیرمین اسلم بلوچ حاجی نواز بنگلزئی حاجی ادر یس شاہوانی محمد اعظم کرد محمد اقبال سرپرہ آغا محمد شاہ ٹیھکدار الیاس مینگل گل نواز بنگلزئی ارشاد لانگو حضور بخش بنگلزئی بھی موجود تھے۔


