قومی اسمبلی اجلاس، اسلام آباد میں گدھے کے گوشت کی فروخت کا انکشاف
اسلام آباد (آن لائن) قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفی شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا، اجلاس میں اسلام آباد میں گدھے کے گوشت کی فروخت ،پاکستان اسٹیل ملز، پولٹری سیکٹر، گندم، شوگر اور پاکستان ریلوے کی اراضی سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے۔اجلاس میں رکن قومی اسمبلی شہلا رضا کے پاکستان اسٹیل ملز سے متعلق سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری شاہد عثمان نے بتایا کہ رشین انڈسٹریل انجینئرنگ کارپوریشن کے ساتھ دو پروٹوکولز پر دستخط ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پاکستان اسٹیل ملز کو اسکریپ کرنے کے بجائے ریوائیول کی جانب جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس موقع پر شرمیلا فاروقی نے انکشاف کیا کہ اسٹیل ملز سے 7 ہزار 709 ملازمین کو نکالا گیا جبکہ 700 ایکڑ زمین کے حوالے سے بھی وضاحت طلب کی۔ شازیہ مری نے کہا کہ تاحال یہ واضح نہیں کہ اسٹیل ملز کو مکمل طور پر بحال کیا جا رہا ہے یا اسکریپ کیا جا رہا ہے۔پولٹری سے متعلق سوالات کے جواب میں وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ فوڈ سیفٹی اتھارٹیز کی ذمہ داری ہے کہ وہ جا کر چیکنگ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی سطح پر 45 فیصد پولٹری استعمال ہوتی ہے جبکہ گوشت کی برآمدات کے لیے ایف ایم ڈی فری ہونا لازمی ہے۔ رانا تنویر حسین نے پولٹری سیکٹر کو ایک اہم شعبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے خصوصی پراجیکٹس شروع کیے گئے ہیں۔رکن اسمبلی شازیہ ثوبیہ نے اسلام آباد میں گدھے کے گوشت کی فروخت کا معاملہ اٹھایا جس پر وزیر نے جواب دیا کہ اس کی نگرانی فوڈ اتھارٹیز کرتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا کنٹرول صوبائی حکومتوں کے پاس ہے، آٹا مہنگا ہو تو اس کا حل بھی صوبوں کی ذمہ داری ہے۔افغانستان کے ساتھ بارڈر بندش پر آغا رفیع اللہ نے تشویش کا اظہار کیا جس پر رانا تنویر حسین نے کہا کہ بارڈر بند ہونے سے تجارت متاثر ہوئی تاہم اب تک 500 ملین ڈالر کے قریب کینو ایکسپورٹ ہو چکا ہے۔ شوگر سے متعلق انہوں نے بتایا کہ اس وقت چینی 150 سے 200 روپے فی کلو کے درمیان دستیاب ہے اور توقع ہے کہ آئندہ پیداوار بہتر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ شوگر لازمی آئٹم نہیں اور چیزیں کنٹرول میں ہیں۔سحر کامران نے شوگر اور گندم بحران کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ درآمدات کے باعث ٹریڈ ڈیفیسٹ بڑھ رہا ہے۔ جواب میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ تین لاکھ ٹن شوگر درآمد کی گئی اور تمام عمل شفاف طریقے سے مکمل کیا گیا، جبکہ گزشتہ دو برسوں میں فرٹیلائزر کا ایک بیگ بھی امپورٹ نہیں کیا گیا۔خیبر پختونخوا میں گندم کی قیمتوں میں اضافے پر بیرسٹر گوہر کے سوال پر رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاسکو کے پاس وافر گندم موجود ہے اور صوبے جب چاہیں حاصل کر سکتے ہیں۔دریائی راستوں پر فیری سروس سے متعلق سوال پر وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے دلچسپ انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ "کاغذ کی کشتی اور بارش کا پانی” جیسے حالات میں فیری ممکن نہیں۔اجلاس کے دوران پاکستان ریلوے کی اراضی پر قبضوں کا بھی انکشاف ہوا۔ وزارت ریلوے کے تحریری جواب کے مطابق ملک بھر میں پاکستان ریلوے کی 1 لاکھ 68 ہزار 858 ایکڑ اراضی موجود ہے، جس میں سے 7.38 فیصد تجاوزات کی زد میں ہے۔ بتایا گیا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں 2 ہزار 552 ایکڑ اراضی واگزار کرائی گئی، جبکہ جولائی 2024 سے جون 2025 کے دوران 781.84 ایکڑ زمین قابضین سے واگزار کرائی گئی۔ جولائی سے دسمبر 2025 کے دوران 10 ارب 128 ملین روپے مالیت کی اراضی تجاوزات سے خالی کروائی گئی۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلوے عثمان اویسی نے کہا کہ چیف سیکرٹریز کو خطوط ارسال کیے جا چکے ہیں، انکروچمنٹس میں کمی آئی ہے اور آئندہ مزید کمی متوقع ہے


