بلوچستان ریجنل لینگوئیجزبل واپس لیا جائے، صدرسید ہاشمی ریفرنس کتابجاہ

ویب ڈیسک : سید ہاشمی ریفرنس کتابجاہ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر رمضان بامری اور جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ جمال ناصر بلوچ نے بلوچستان حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے بلوچستان ریجنل لینگوئیجز، اکیڈمیز اینڈ لٹریری سوسائٹیز بل 2025 پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔ اپنے مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ اس بل کے ذریعے بلوچی سمیت بلوچستان کی دیگر قومی زبانوں سے وابستہ ادبی و علمی اداروں کو سرکاری تحویل میں لینے کی کوشش دراصل ان اداروں کی خودمختاری کو سلب کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں زبان و ادب کے فروغ کے لیے قائم ادبی تنظیمیں کئی دہائیوں سے رضاکارانہ بنیادوں پر کام کر رہی ہیں اور ان اداروں نے مقامی زبانوں، ثقافت اور تاریخ کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر ان اداروں کو بیوروکریسی کے زیر انتظام لایا گیا تو اس سے نہ صرف ان کی آزادی متاثر ہوگی بلکہ زبان و ادب کی ترقی و ترویج کا عمل بھی شدید متاثر ہوگا۔پروفیسر ڈاکٹر رمضان بامری اور ایڈووکیٹ جمال ناصر بلوچ نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ادبی اداروں کو سرکاری کنٹرول میں لینے کے بجائے ان کی سرپرستی کرے اور انہیں مزید مالی اور انتظامی تعاون فراہم کرے تاکہ بلوچستان کی تمام زبانوں اور ثقافتوں کے تحفظ اور فروغ کا عمل جاری رہ سکے۔انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان ریجنل لینگوئیجز، اکیڈمیز اینڈ لٹریری سوسائٹیز بل 2025 کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور ادبی و علمی اداروں کی خودمختاری کو برقرار رکھا جائے تاکہ بلوچستان کی زبانیں، ادب اور ثقافتی شناخت محفوظ رہ سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں